شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

شہزاد احمد

کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں

Read More

سید فخرالدین بلے ۔۔۔ ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود دنیا سمٹ رہی ہے بکھرنے کے باوجود راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود اس بحرِ کائنات میں ہرکشتیِ انا غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود زیر ِ قدم ہے چاند، ستارے ہیں گردِ راہ دھرتی پہ آسماں سے اترنے کے باوجود طوفاں میں ڈوب کر یہ ہوا مجھ پہ انکشاف پانی تھی صرف موج بپھرنے کے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عابد سیال

خیالِ طیبہ و یاد ِحرم مسلسل ہے چھلکتا آنکھ سے دوری کا غم مسلسل ہے ان آنگنوں سے گزرتی نہیں ہوائے ملال جہاں جہاں وہ نگاہِ کرم مسلسل ہے مرے بھٹکنے کا امکان ہی نہیں کوئی نگاہ میں وہ شبیہِ قدم مسلسل ہے جو لمحہ ان سے ہے منسوب باقی ہے ورنہ رواں یہ قافلہ سوئے عدم مسلسل ہے زمانے جھکتے چلے جا رہے ہیں اس جانب مدارِ وقت اسی چوکھٹ پہ خم مسلسل ہے

Read More

علی ارمان

مجھے ہوتی ہے اذیّت بڑی تیّاری میں اُس کے کپڑے ہیں ابھی تک مری الماری میں

Read More

محمد افتخار شفیع

حصارِ ریگ میں برسوں جلا تھا میرا وجود سو ایک دشت مرا ہم خیال ہوگیا ہے

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔ شاخ پہ رنج نمودار نہیں ہو سکتا

کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا میں تمھیں دیکھ رہا ہوں اُسی حیرانی سے آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں مگر گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے باغ میں وقت بِتانے سے یہ ہوتا ہے کہ دل جھومنے لگتا ہے نغموں کی فراوانی سے جہاں رہتے ہیں مرے جان سے پیارے مرشد پیار کرتا ہوں اُسی خطہِ بارانی سے بات دنیا کو عقیدت سے بتاؤ کہ سعید چین…

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔ رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے

رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے کہاں جائو گے، رات کا وقت ہے کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر یہ معمولی اوقات کا وقت ہے یہ کیا دل میں ریزہ رڑَکنے لگا ابھی تو شروعات کا وقت ہے گلے خشک، پیشانیاں تر بتر عمل کے مکافات کا وقت ہے

Read More

احسان شاہ …. کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے

کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے کسی عقاب کو گویا کہ زاغ ،مشورہ دے مرے علاوہ نہیں ہے کوئی یہاں جو مجھے زمیں کو دشت بنائوں کہ باغ ،مشورہ دے مرے ندیم! میں مفلوج ہونے والا ہوں ملے فراغ سے کیسے فراغ ،مشورہ دے امیرِ لشکرِ مغلوب! اب کہاں جائیں مٹائیں خود کو یا رہنے دیں داغ،مشورہ دے علیمِ وقت! نہیں ہے تمیزِ لیل و نہار میں کب جلائوں بجھائوں چراغ ،مشورہ دے

Read More

میاں داد خاں سیاح

شاید انھیں بہ طرزِ فسانہ کوئی سنائے کہتے ہیں اپنا حال ہر اک قصہ خواں سے ہم

Read More