صابر ظفر

کچھ لوگ ادھر سے آ رہے ہیں کچھ روشنی ہو رہی ہے اس پار

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )

یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں دل ابھی تک ہے بورے والا میں گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر…

Read More

شاہین عباس

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…

Read More

مرتضیٰ برلاس ۔۔۔ ہے ادھر پھر وہی شب خوں کا ارادہ برلاس (ماہنامہ بیاض لاہور، اکتوبر 2023 )

ہے ادھر پھر وہی شب خوں کا ارادہ برلاس اور ادھر مشغلۂ بربط و بادہ برلاس پہلے بھی ایسی ہی شب تھی کہ قیامت ٹوٹی پھر وہی رت، وہی منزل، وہی جادہ برلاس کیا اثر اس پہ ہو اعجازِ مسیحائی کا جس کے جینے کا نہ ہو اپنا ارادہ برلاس اپنے ملبوسِ دریدہ کو چھپانے کے لیے پہنے پھرتے ہو تصنع کا لبادہ برلاس جن کو قربان کریں شاہ بچانے کے لیے ہم ہیں اس بازی میں یوں جیسے پیادہ برلاس تنگ دل تنگ نظر لاکھ ہوں دنیا والے تم…

Read More

قابل اجمیری

راہ پرخار ہے اور رات اندھیری قابلؔ دور تک کوئی چراغِ رخِ زیبا بھی نہیں

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری

Read More

جلیل مانک پوری … نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے

نہ خوشی اچھی ہے‘ اے دل! نہ ملال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دلِ بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن میں خدا خیر کرے وہ ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہہ کہہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے‘ نئی جنس ہے…

Read More

تلوک چند محروم ۔۔۔ ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے

طائرِ دل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے حیلہ سازی کے لیے دانۂ خال اچھا ہے دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے تاب نظارہ نہیں گو مجھے خود بھی‘ لیکن رشک کہتا ہے کہ ایسا ہی جمال اچھا ہے دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے مطمئن بیٹھ نہ اے راہروِ راہِ عروج ترا رہبر ہے اگر خوفِ زوال اچھا ہے نہ رہی بے…

Read More

احمد فراز ۔۔۔۔ کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے‘ جانتے ہیں دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے رہروانِ رہِ الفت کا مقدر معلوم ان کا آغاز ہی اچھا نہ مآل اچھا ہے دوستی اپنی جگہ پر…

Read More