مستی میں رازِ کون و مکاں برملا کہوں پر کیا کروں مغاں کا اشارا نہیں مجھے
Read MoreTag: best urdu poetry
معین احسن جذبی ۔۔۔ ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں
ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں، آہوں میں اشارا کرتے ہیں کیا تجھ کو پتہ، کیا تجھ کو خبر، دن رات خیالوں میں اپنے اے کاکلِ گیتی! ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں اے موجِ بلا! ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں کیا جانیے کب یہ پاپ کٹے، کیا جانیے وہ دن کب آئے جس دن کے لیے ہم، اے جذبی! کیا…
Read Moreآنند نرائن مُلا ۔۔۔ غزل سے
غزل سے ۔۔۔۔۔۔ دلھن تھی تجھے مَیں نے ساتھی بنایا شبستاں سے میدان میں کھینچ لایا ترے نرم لہجے کو للکار دے دی ترے دستِ نازک میں تلوار دے دی دیا دردِ انساں کا احساس تجھ کو کھڑا کر دیا نظم کے پاس تجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعری مجموعہ: کربِ آگہی ناشر: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، اُردو بازار، نئ دہلی سنِ اشاعت: جنوری ۱۹۷۷ء
Read Moreمیر اثر
کر دیا کچھ سے کچھ ترے غم نے اب جو دیکھا تو وہ اثر ہی نہیں
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔ صدائیں دیتا ہے کوئی ہر آن خالی کر
صدائیں دیتا ہے کوئی ہر آن خالی کر یہ خستہ حال پرانا مکان خالی کر زمانہ نت نئے اسلوب کی تلاش میں ہے تُو اپنے رسمِ کہن کی دکان خالی کر کنارہ تو نہیں، گرداب اپنی منزل ہے ہوا نکال دے، اب بادبان خالی کر تُو کس کی گھات میں بیٹھا ہے، اپنی خیر منا الٹنے والی ہے تیری مچان، خالی کر نشانہ چُوک نہ جائے لرزتے ہاتھوں سے اچھال تیر کماں سے، کمان خالی کر نویدِ صبحِ یقیں کوئی دے گیا مشتاق سو اب علاقہء وہم و گمان خالی…
Read Moreسارا شگفتہ ۔۔۔ چاند کا قرض
چاند کا قرض ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھُوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں جنم کے پہیے پر موت کی رَتھ دیکھ رہی ہوں زمینوں میں میرا اِنسان دفن ہے سجدوں سے سر اُٹھا لو…
Read Moreعلامہ طالب جوہری
محسنوں کی آنکھ سے کاجل چرا لیتے ہیں لوگ سوچتے کیا ہو، نظر رکھا کرو سامان پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعری مجموعہ: پسِ آفاق
Read Moreعلامہ طالب جوہری ۔۔۔ ہم کو سوادِ شہر وفا میں ہم سفری الزام ہوئی
ہم کو سوادِ شہرِ وفا میں ہم سفری الزام ہوئی برسوں اس کے ساتھ پھرے ہیں تب یہ کہانی عام ہوئی بادل بن کر بادِ صبا کے دوش پہ اُڑتی پھرتی تھی روحِ نمو جب سایہء گُل میں آئی تو زیر ِ دام ہوئی بے مقصد پرواز سے تھک کر تتلی پھول پہ بیٹھ گئی پھول تو اپنی جان سے ہارا، تتلی بھی بدنام ہوئی نام و نسب کو اپنی گرہ میں باندھ کے ہم خوش ہیں، ورنہ ہجر سے لے کر ہجرت تک ہر جنس یہاں نیلام ہوئی کوفے…
Read Moreعلامہ طالب جوہری ۔۔۔ دھندے
دَھندے ۔۔۔۔۔۔ پچھلے سفر میں لندن کے اک تُرکی رستوران کے اندر اُس نے کہا تھا "سارے کاموں کو نپٹا کر میرے پاس چلے آنا رشتے، ناطے مستقبل کے سب منصوبے جب تم اپنے دھندوں سے فارغ ہو جائو میرے پاس چلے آنا ہم تم دونوں اپنے جنوں کی شمع جلا کر اپنے گھر کا گھور اندھیرا دُور کریں گے اور وہ گھر آباد رہے گا” لیکن مَیں اِک سندھی گوٹھ میں پھونس کے چھپر والے ہوٹل کی کرسی پر کب سے بیٹھا سونچ رہا ہوں دنیا کے دھندے کس…
Read Moreمیر حسن
نسخہء دل کو سرسری مت دیکھ سینکڑوں علم اس کتاب میں ہیں
Read More