مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے سُنا ہے، مَیں کہیں پایا گیا ہوں
Read MoreTag: Download
صابر ظفر ۔۔۔ اک عمر جو ہم نے خون تھوکا
اک عمر جو ہم نے خون تھوکا دل نرم نہیں ہوا کسو کا جب موت کی منتظر ہوں سانسیں دورانیہ ہے وہ کرفیو کا بارود ہے اس قدر سرِ خاک امکان ہی چھن گیا نمو کا بہتر ہے کہ بے طلب ہی جی لو یہ عہد نہیں ہے آرزو کا ہستی ہے ہماری، یاد جس کی وہ ہم کو بھلا چکا کبھو کا حد سے جو گزر رہے ہیں ہم تم حاصل ہے کوئی تو جستجو کا اب تک ہے وہی زبان بندی عالم ہے ہنوز کوئی ہُو کا ڈوبے…
Read Moreبرسات ۔۔۔ منیر نیازی
برسات ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ! یہ بارانی رات مینہ، ہوا، طوفان، رقصِ صاعقات شش جہت پر تیرگی اُمڈی ہوئی ایک سناٹے میں گم ہے بزم گاہِ حادثات آسماں پر بادلوں کے قافلے بڑھتے ہوئے اور مری کھڑکی کے نیچے کانپتے پیڑوں کے ہات چار سُو آوارہ ہیں بُھولے بسرے واقعات جھکڑوں کے شور میں جانے کتنی دُور سے سُن رہا ہوں تیری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول
Read Moreظہیر کاشمیری
اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔ کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اُس کی سمت کشش عجیب تھی اُس دشت کی صداؤں میں وہ اِک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں سکوتِ شام ہے اور مَیں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں مری طرح یونہی گُم کردہ راہ چھوڑے گی تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں نقوش پاؤ ں…
Read Moreثمینہ راجہ ۔۔۔ چوتھی سمت
چوتھی سمت ۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں کے شاہزادے سفر پہ جاتے تو لوگ اُن کو ہمیشہ ہی چوتھی سمت جانے سے روکتے تھے مگر انھیں اک عجب تجسس کشاں کشاں اُس طرف بڑھاتا اور ایک سنسان راستے پر ہوا کی بے چین سیٹیوں سے اُبھرتی آواز شاہزادوں کے نام لے کر پکارتی تھی پلٹ کے تکتے تو شاہزادے سیاہ پتھر میں ڈھلتے جاتے ہمارے بچپن نے یہ کہانی اماوسوں کی اندھیری راتوں میں کتنے شوق اور کس لگن سے ہزارہا مرتبہ سنی تھی ہمارا بچپن گزر چکا اب ہمیں بھی درپیش…
Read Moreمحمود ایاز
در و دیوار کی خموشی نے رات بھر ہم سے کوئی بات کہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوغات شمارہ: 006
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ بہار
بہار ۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا بہار آ گئی؟ کھل اُٹھا زخمِ خوابِ ہنر! پھر دہکنے لگی ہے نظر! یاد روشن ہوئی اب کے کچھ اس طرح یاد روشن ہوئی گھر کے تاریک کونے چمکنے لگے میری البم میں ٹھہرے ہوئے موسموں کو خبر ہو گئی تیری مہکی ہوئی، سرخ تصویر پر ۔۔۔۔۔۔۔ پھول کس نے سجایا ۔۔۔۔۔۔۔ بجھے خواب سے پھوٹتی مرمریں کارنس سے اُترتی ہوئی بیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روشن انگیٹھی سے ہوتی ہوئی کیوں بھلا ؟ میز تک آ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ گلابی کہانی میں رکھا ہُوا خواب ۔۔۔۔۔۔۔ کس…
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
جی بھر کے دوستوں سے گلے بھی نہ مل سکا کیا جلد قافلے نے کیا ایک بار کوچ
Read Moreباقی احمد پوری ۔۔۔ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺩَﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ، ﺳﺮِ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻢ ﻧِﮑﻠﮯ
کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے ضمیروں کی صدا پر بھی، نہ تم نکلے، نہ ہم نکلے کرم کی ایک یہ صورت بھی ہو سکتی ہے، مقتل میں تری تلوار بھی چلتی رہے اور خوں بھی کم نکلے نہ مَیں واعظ، نہ مَیں زاہد، مریضِ عشق ہوں، ساقی! مجھے کیا عذر پینے میں، اگر سینے سے غم نکلے محبت میں یہ دل آزاریاں اچھی نہیں ہوتیں جسے دیکھو تری محفل سے وہ با چشمِ نم نکلے ستاروں سے پرے کوئی ہمیں آواز دیتا ہے کہیں ایسا نہ…
Read More