قمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منشا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں دغا دی تم نے کھلبلی مچ گئی تاروں میں قمر نے دیکھا شب کو یہ چاند سی صورت…

Read More

یزدانی جالندھری

یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا

Read More

غلام حسین ساجد

روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے

Read More

غلام حسین ساجد

خاک زادوں سے تعلق نہیں رکھتے کچھ لوگ میزبانی سے غرض اُن کو نہ مہمانی سے !

Read More

شاہین عباس

شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر

Read More

احمد فراز

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

Read More

عابدہ عروج

دعویٰ چاہت کا نہیں پر جب اسے سوچا عروج پھول خوشبو رنگ تارے آنکھ میں لہرا گئے

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم

چھوٹ سکتے ہی نہیں طوفان کی مشکل سے ہم جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم، ساحل سے ہم جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم وہ سبق آئے ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم یاد رکھیں گے کہ اٹھے تھے تری محفل سے ہم اب نہ آوازِِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا تم…

Read More

حفیظ ہوشیارپوری

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

Read More

خالد علیم

چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں

Read More