سعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ​

کوکھ جلا سیارہ​ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…

Read More

بانی ۔۔۔ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں

غزل​ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا ! میں کیا ہوں رقص یک قطرۂ خوں ، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا !میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جُدا، میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑ ھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے ، نیا…

Read More

حسن عباس رضا

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

Read More

یزدانی جالندھری

ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے

Read More

شاہین عباس

تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور

Read More

خورشید رضوی

پھول کھلنے کی کوشش سے اکتا گئے آنکھ بھر کر انھیں دیکھتا کون ہے

Read More

عطاالحسن

چاہے مکین گھر کو بُرا جاننے لگے دیوار کیسے در کو بُرا جاننے لگے

Read More

صابر ظفر

کچھ لوگ ادھر سے آ رہے ہیں کچھ روشنی ہو رہی ہے اس پار

Read More

یزدانی جالندھری

مجھ سے ناراض تو وہ ہیں، لیکن تذکرہ میرا بات بات میں ہے

Read More

فیض احمد فیض

نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی

Read More