سورج کا عکس چھاؤں کی جانب نہ ہو سکا ہم سے سفر میں ایسا مناسب نہ ہو سکا کل رات ابرِ غم کے حوالے نہ مِل سکے کل رات بھی شُمارِ کواکب نہ ہو سکا راسخ تھا اِس طرح تُو مِرے لا شعور میں دشمن مِرے شعور پہ غالب نہ ہو سکا لُوٹی ہیں اُس نے پھول سے چہروں کی رونقیں اُس جیسا کوئی وقت کا غاصب نہ ہو سکا آصف میں ڈٹ گیا تھا مقابل کے سامنے پھر بھی ستم کی سمت وہ راغب نہ ہو سکا
Read MoreTag: urdu poets
زاہد محمود زاہد ۔۔۔ اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں
اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں کسی چراغ کی زد پر مگر ہوائیں ہیں یہ آگ بڑھنے سے پہلے ہی روک لو ورنہ جو شعلہ بھڑکا اِدھر تواُدھر ہوائیں ہیں کوئی چراغ ہمیں روشنی نہیں دیتا براجمان ہر اک بام پر ہوائیں ہیں تمھاری آنکھ میں جب دھول جھونکتے گزریں سمجھ میں آئے گا تب بے خبر! ہوائیں ہیں گلِ حیات کھلا ہے انھی کے ہونے سے کہ یہ ہوائیں بہت کارگر ہوائیں ہیں چراغ تو نے جلایا تو ہے مگر زاہد سفر ہے شام کا اور…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ رباعیات
سورج ہے عجیب، کچھ اُجالا کرکے اک اگلی صبح کا تقاضا کرکے ہر رات ستاروں کو بجھا دیتا ہے ہر روز نکلتا ہے تماشا کرکے ٭ حیرت کی فراوانی گھر پر ہے میاں باہر بھی گھر جیسا منظر ہے میاں آنکھیں نہ جلا کہ اندروں جل جائے خاموش کہ خامشی ہی بہتر ہے میاں ٭ کھِل سکتا ہے گوبر سے گُلِ ریحانی جوہڑ سے نکل سکتا ہے میٹھا پانی یہ جَہلِ مرکّب جو نہیں تو کیا ہے؟ نادان کی نادانی پر حیرانی ٭ ایسا بھی بے خبر کوئی دل ہوگا؟…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی
وردِ درود پاک نے ایسا کمال کر دیا فکر و دل و نگاہ کو شاخِ نہال کر دیا لہجہ مرے رسول کا معجزۂ مقال تھا جس نے ہر ایک تند خو شیریں مقال کر دیا عزتیں بخش دیں تمام کس نے صہیبِ روم کو کس نے رخِ بلال کو رشکِ جمال کر دیا نعتِ نبی سے فکر میں ایسے گلاب کھل اٹھے حرف و خیال و صوت کو خوشبو مثال کر دیا دونوں جہاں کی دولتیں اس پہ نثار ہو گئیں جس نے فدا حضور پر مال و منال کر…
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے
وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے مکاں میں رہتے ہوے لا مکان کیسے لگے سجا کے آنکھ میں لاشے حسین خوابوں کے وفا کے لٹتے ہوے کاروان کیسے لگے میں ممکنات سے لمحے چرا کے لایا ہوں جو درد تونے کیے مجھ کو دان، کیسے لگے لطیف وقت تھا جو تیرے ساتھ بیت گیا جو ٹوٹے ہجرکے پھر آسمان، کیسے لگے تجھے کہا تھا: محبت فریب دیتی ہے سجائے عشق کے دل پر نشان، کیسے لگے ہوا کے زور سے گر تو گئے درخت‘ مگر پرندے پھرتے ہوے بے…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے
دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول
علی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے
درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے
Read Moreعطاالحسن
تیری تصویر نہ ہونے سے مرے کمرے میں کوئی خواہش ہے جو لگ جاتی ہے دیوار کے ساتھ
Read Moreنذیر قیصر ۔۔۔ فصلِ گل آئے زمانے ہو گئے
فصلِ گل آئے زمانے ہو گئےزخم شاخوں کے پرانے ہو گئے خاک اُڑا کر رہ گئی موجِ صبادفن مٹی میں خزانے ہو گئے کھڑکیوں میں پھول کھلتے تھے جہاںوہ گلی کوچے فسانے ہو گئے کچھ تو ہم پہلے ہی تھی آشفتہ سراور کچھ تیرے بہانے ہو گئےلوٹ آئے تیر اپنی ہی طرفگم خلاؤں میں نشانے ہو گئے
Read More