سید آل احمد ۔۔۔ یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے

یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے اے مری کاہشِ جاں! کس نے ستایا ہے مجھے اتنی نفرت تو مرے دل میں نہ جاگی تھی کبھی سوچ‘ کس شخص نے یہ زہر پلایا ہے مجھے پھر کوئی تازہ کسک دل کی تہوں میں اُتری پھر کسی خواب نے آئینہ دکھایا ہے مجھے کس نے لوٹا ہے مرے ذہن کی سوچوں کا سہاگ اے مرے قلب تپاں! کس نے چرایا ہے مجھے تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں نکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میں کچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیں بکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے تو ان اونچے اونچے مکانوں کو پھاند جاؤں میں گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کی وہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں یہ زندگی تو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے

رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے بزم در بزم، کرب کا اظہار کر نہ دے اور بھی ملول مجھے بات کی میں نے جب مرّوت کی وہ سُجھانے لگے اصول مجھے دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل گھُورتے رہ گئے ببول مجھے جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں

بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے کل کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں

Read More

محسن اسرار

مرے کس کام کے ہیں اب یہ کوے اور کبوتر عبث برباد گھر کی چاردیواری کریں گے À quoi me servent désormais corbeaux et colombesIls détruiront en vain les murs de ma demeure

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ شب وصل ہے بحث حجت عبث

شب وصل ہے بحث حجت عبث یہ شکوے عبث یہ شکایت عبث ہوا ان کو کب اعتماد وفا جتاتے رہے ہم محبت عبث یہاں اب تو کچھ اور سامان ہے وہ آتے ہیں بہر عیادت عبث نصیبوں سے اپنے ہے شکوہ ہمیں کریں کیوں کسی کی شکایت عبث مرا حال سن کر وہ ہیں بے قرار کیا کس نے ذکر محبت عبث فلک مر مٹوں سے نہ رکھ یہ غبار مٹا بے کسوں کی نہ تربت عبث سنوں گا تری ہوش میں آ تو لوں ابھی سے ہے ناصح نصیحت…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا کسے دکھاتے بڑا ہول ناک منظر تھا لڑھک کے میری طرف آ رہا تھا اک پتھر پھر ایک اور پھر اک اور بڑا سا پتھر تھا فصیلیں دل کی گراتا ہوا جو در آیا وہ کوئی اور نہ تھا خواہشوں کا لشکر تھا بلا رہا تھا کوئی چیخ چیخ کر مجھ کو کنویں میں جھانک کے دیکھا تو میں ہی اندر تھا بہت سے ہاتھ اگ آئے تھے میری آنکھوں میں ہر ایک ہاتھ میں اک نوک دار خنجر تھا وہ…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے

وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے

Read More

محسن اسرار

مرے خدشات ان آنکھوں سے ظاہر ہو رہے ہیں عجب انداز سے نقلِ مکانی ہو رہی ہے Mes craintes se lisent dans ses yeux silencieuxQuelque chose s’en va — d’une manière étrange, presque élégieuse

Read More

شاہین عباس

آج گئے دنوں کے ساتھ ، اپنی گلی میں کیا گئے بند تھا در ، خفا ہوا ، خالی تھا گھر ، برس پڑا Aujourd’hui, avec les jours enfuis, je suis passé par mon ancienne ruelle La porte close m’a blessé, la maison vide… et le ciel s’est mis à pleurer

Read More