سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں  کا سفرخواہش قربِ بدن…

Read More

آفتاب خان … اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے

اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے فلک سے آکے فرشتہ نکالتا ہے مجھے میں روز ایک نئی بحر میں الجھتا ہوں یہ کون شعر و سخن میں اچھالتا ہے مجھے مرا شمار بھی ہوگا گناہ  گاروں میں وہ جانتا ہے مگر پھر بھی پالتا ہے مجھے میں زندگی میں کئی بار ڈگمگایا ہوں مگر وہی تو ہمیشہ سنبھالتا ہے مجھے قدم قدم پہ رکاوٹ کا سامنا ہے مگر وہ امتحان سے کندن میں ڈھالتا ہے مجھے بدن سے میل کسی طور اب اتر جائے وہ اس لیے لبِ…

Read More

سعید راجہ

اپنی قسمت میں کجی ایک یہی دیکھی ہے سب میسر ہے فقط تیری کمی دیکھی ہے

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا

نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…

Read More

سعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا

مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…

Read More

ذوالفقار نقوی

کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے

Read More

عزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں

کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…

Read More

ماجدالباقری

فکرِ معاش جسم سے آرام لے گئی جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ تِرا مشورہ مان لوں میں؟

تِرا مشورہ مان لوں میں؟ یہ کھوٹا، کھرا مان لوں میں؟ میں اپنی اکائی کو توڑوں؟ تجھے دُوسرا مان لوں میں؟ فضا میں جو تتلی ہے رقصاں اُسے اپسرا مان لوں میں تری جستجو چھوڑ دوں کیا؟ تُجھے ماورا مان لوں میں؟ ستاروں سے خالی فلک کو ستاروں بھرا مان لوں میں؟ یہ سُوکھا ہوا زرد پتّا اسے کیوں ہَرا مان لوں میں؟ جو ابلیس کہتا ہے مجھ سے بتا، داورا ، مان لوں میں؟

Read More

خورشید رضوی

شاید اسی لیے ہے شوریدگی زیادہ آنے لگا سمندر گُھٹ گُھٹ کے ندّیوں میں

Read More