ماجد صدیقی ۔۔۔ قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا

قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا مردُود، بہت مقبول ہُوا ہر طُول کو عرض کیا اُس نے اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے جو کام کیا، وہ اصول ہُوا گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا ہو کیسے سپھل پیوندوں سے ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے

اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے

Read More

احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

Read More

محسن اسرار

ضرورت ہے کہ ہنگامہ کیا جائے مگر کب تک میں ہنگامہ کروں گا

Read More

خالد احمد

ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )

یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں دل ابھی تک ہے بورے والا میں گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر…

Read More

نعتِ رسولِ مقبولﷺ … ناصر زیدی

نعتِ رسولِ مقبولﷺ نہ مال و زر کی، نہ جاہ و حشم کی خوشبو تھی سوادِ قلب و نظر میں حرم کی خوشبو تھی عجب نشہ تھا کہ خود پر بھی اختیار نہ تھا مشامِ جاں میں وہ جود و کرم کی خوشبو تھی قریب روضۂ اقدس کی جالیاں تھیں مرے عقیدتوں میں بسی چشمِ نم کی خوشبو تھی کِھلا ہُوا تھا چمن ہر طرف مرادوں کا حضورؐ آپ کے ہی دم قدم کی خوشبو تھی جب آپ آئے تو ایمان وہ بھی لے آئے وہ جن کے ذہن میں…

Read More

یزدانی جالندھری

ایک درویشِ جہاں دار ہے یزدانی بھی آپ نے شہر میں اکثر اُسے دیکھا ہو گا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More