محسن احسان

مری سماعت و بینائی چھیننے والے میں سن بھی سکتا ہوں مجھ کو نظر بھی آتا ہے

Read More

سید آلِ احمد

احمد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے

Read More

خالد علیم

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…

Read More

تصدق شعار ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

جب سفینہ کسی منجدھار میں آ جاتا ہے کوئی رخنہ مری پتوار میں آ جاتا ہے غم جو الفاظ کی بندش میں نہیں آ سکتا چُپ کے پیرایۂ اظہار میں آ جاتا ہے سنگ چُنوا دیئے جب اُس نے جھروکے کی جگہ اُس کا چہرہ مری دیوار میں آ جاتا ہے بدنصیبی سے اگر بُھوک گلے پڑ جائے گھر کا سامان بھی بازار میں آ جاتا ہے اُس کو رہتا ہے مرے سامنے آنے سے گریز یہ الگ بات کہ اشعار میں آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لُطف تو کیا کہ…

Read More

سید ضیا حسین ۔۔۔ پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں جان جاؤں نہ عیب سارے مَیں اِک زمانہ بنا لیا دشمن اور کتنے سہوں خَسارے مَیں نیند تو ساتھ ہی گئی اُس کے گنتا رہتا ہوں اب ستارے مَیں آنکھ ملتا ہی رہ گیا اُس دم دیکھ پایا نہیں نظارے مَیں کھول کر خود نہ پڑھ سکا اِن کو بانٹتا ہی رہا سپارے مَیں بات کھُل کر کیا کرو مجھ سے کُچھ سمجھتا نہیں اِشارے مَیں کوئی جلتا ہے گر، جلے بے شک بھر چکا شعر میں شرارے مَیں اک حقیقت ہے، چھوڑ کر خوش…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…

Read More

نجیب احمد

میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف

Read More

احمد مشتاق

اب رات تھی اور گلی میں رکنا اس وقت عجیب سا لگا تھا

Read More

آدرش دبے

ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے

Read More