حفیظ جونپوری ۔۔۔ اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے

اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے کہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکے ہمیں جو دیکھ لیا جھک گئی حیا سے آنکھ ادھر ادھر سرِ محفل نگاہ کر نہ سکے خدا کے سامنے آیا کچھ اس ادا سے وہ شوخ کہ منہ سے اف بھی ذرا داد خواہ کر نہ سکے ترے کرم کا بھروسا ہی زاہدوں کو نہیں اسی لیے تو یہ کھل کر نگاہ کر نہ سکے رہا یہ پاس ہمیں آپ کی نزاکت کا کہ دل کا خون ہوا، منہ…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا

بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا میں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھا شام ہی سے ہم کہیں جاتے تھے روز مدتوں اپنا یہی دستور تھا وہ کیا جس میں خوشی تھی آپ کی وہ ہوا جو آپ کو منظور تھا کچھ ادب سے رہ گئے نالے ادھر کیا بتائیں عرش کتنی دور تھا جس گھڑی تھا اس کے جلوے کا ظہور عرش کا ہم سنگ کوہ طور تھا اک حسیں کا آ گیا جو تذکرہ دیر تک محفل میں ذکرِ حور تھا وصل کی شب تھی شبِ معراج کیا…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا

ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا آتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلنا محشر بپا کیا ہے رفتار نے تمہاری اس چال کے تصدق یہ بھی ہے کوئی چلنا غیروں کے گھر تو شب کو جاتے ہو بارہا تم بھولے سے میرے گھر بھی اک روز آ نکلنا ہٹ کی کچھ انتہا ہے ضد کی بھی کوئی حد ہے یہ بات بات پر تو اچھا نہیں مچلنا جلتا ہے غیر ہم سے تو کیا خطا ہماری تم یہ سمجھ لو اس کی تقدیر میں ہے…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے

زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے یہی ہے رنگ دنیا کا، ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے جوانی کی ہے آمد، حسن کی ہر دم ترقی ہے تری صورت، ترا نقشہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے نہ آئے گا قرار اس کو نہ ممکن ہے قیام اس کو ہمارا دل ترا وعدہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے کبھی تو جستجو اس کی کبھی گم آپ ہو جانا مری وحشت مرا سودا، ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے غرورِ حسن ہے سر میں خیالِ دلبری…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔۔ صبح کو آئے ہو نکلے شام کے

صبح کو آئے ہو نکلے شام کے جاؤ بھی اب تم مرے کس کام کے ہاتھا پائی سے یہی مطلب بھی تھا کوئی منہ چومے کلائی تھام کے تم اگر چاہو تو کچھ مشکل نہیں ڈھنگ سو ہیں نامہ و پیغام کے چھیڑ واعظ ہر گھڑی اچھی نہیں رند بھی ہیں ایک اپنے نام کے قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ اور بھی الجھیں گے حلقے دام کے محتسب چن لینے دے اِک اِک مجھے دل کے ٹکڑے ہیں یہ ٹکڑے جام کے لاکھوں دھڑکے ابتدائے عشق میں دھیان ہیں…

Read More

ایک زمین…. حال اچھا ہے : تیئیس شاعر

مرزا غالب حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے

خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہے ہجر میں عیشِ گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دلِ عاشق میں جو ر ہے عارضِ خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے کیجیے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار باتوں باتوں میں نکل جائے‘ ملال اچھا…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے

ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے پڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسے رہے دل میں وہم و گماں کیسے کیسے سَرا میں ٹِکے کارواں کیسے کیسے گھر اپنا غم و درد سمجھے ہیں دل کو بنے میزباں‘ میہماں کیسے کیسے شبِ ہجر باتیں ہیں دیوار و در سے ملے ہیں مجھے رازداں کیسے کیسے دکھاتا ہے دن رات آنکھوں کو میری سیاہ و سفید آسماں کیسے کیسے جو کعبے سے نکلے‘ جگہ دیر میں کی ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے فرشتے بھی گھائل ہیں تیرِ ادا کے نشانہ ہوئے…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے دن کو اک نور برستا ہے مری تربت پر رات کو چادرِ مہتاب تنی ہوتی ہے زندہ در گور ہم ایسے جو ہیں مرنے والے جیتے جی ان کے گلے میں کفنی ہوتی ہے رت بدلتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری جب بہار آتی ہے توبہ شکنی ہوتی ہے غیر کے بس میں تمھیں سن کے یہ کہہ…

Read More