محسن اسرار

پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

Read More

میر اثر

وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں

Read More

معین ناصر ۔۔۔ کاروبارِِ عتاب ہونا ہے

کار و بارِ عتاب ہونا ہے اب فقط احتساب ہونا ہے کون،کب،کس طرح رہا، یارو! روزِ محشر حساب ہونا ہے خواب میں کل مجھے لگا ایسے عشق اُن سے، جناب! ہونا ہے پھر رہا ہوں گلی گلی جیسے اب مجھے بس خراب ہونا ہے میں ہوں اپنی تلاش میں ناصر کم سے کم دستیاب ہونا ہے

Read More

احسان شاہ ۔۔۔۔۔۔۔ گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے

گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے میں آسمان کو اپنی زمین کرتے ہوئے غمِ فراق کی کاٹی ہے رات سجدے میں کسی کی یاد سپردِ جبین کرتے ہوئے وہ کائنات کو جلوت میں لے کے آیا ہے خود اپنے آپ کو خلوت نشین کرتے ہوئے ہوا سے کہہ دو مرے صحن کے درختوں سے کرے کلام تو لہجہ مہین کرتے ہوئے مرے بدن کی کفالت کا بوجھ ہے مجھ پر میں کام کرتا ہوں خود کو مشین کرتے ہوئے میں بے خیالی میں کل رات گھر سے نکلا…

Read More

حبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔ سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں

سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں خموشیوں سے تری گفتگو نکالتا ہوں ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر سے قدم جب کبھو نکالتا ہوں پھر اُس کے بعد میں اپنے لئے بھی بچتا نہیں اگر میں دل سے تری آرزو نکالتا ہوں بھلا نہ پایا جُنوں میں بھی روزگار کا غم میں خارِ دشت سے کارِ رفو نکالتا ہوں برائے وسعتِ ملکِ سخن ، بنامِ سخن میں اپنا لشکرِ فن چارسو نکالتا ہوں سکھانا پڑگیا فرہاد کو یہ فن آخر یہ…

Read More

نواب مصطفٰی خان شیفتہ

حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا

Read More

مناجات ۔۔۔ لیاقت علی عاصم

مناجات ۔۔۔۔ دیارِ تشنہ کو ابرِ شمال دے مولا سلگتی آنکھ میں آنسو ہی ڈال دے مولا مری اُداس نظر مطمئن نہیں ہے ابھی فضا میں اور ستارے اُچھال دے مولا گذشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی گذشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا وہ آ ملے مرا کردار ختم ہونے تک یہ اتفاق کہانی میں ڈال دے مولا لپیٹ دوں نہ کہیں میں یہ بسترِ امکاں اب اس قدر بھی نہ کربِ محال دے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

آرزو لکھنوی

لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ حرف دو حرف

حرف دو حرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دریچوں میں وہی زرد گمانوں کا غبار وہی احساس کا بے رنگ سا موسم وہی تکرارِ خیال وہی یادوں کے تھکے عکس۔۔۔نگہ کی دیوار وہی ثابت وہی سیّار وہی بے ربط سی بے کیف صدائوں کے الٹ پھیر۔۔۔سماعت کا عذاب سرِ قرطاس نیا کوئی سوال اور نہ جواب خالقِ لوح و قلم! تیرے کرم کے قرباں! پھر تری رحمتِ جاں تاب سے ارزانی ہو سوچ آنگن میں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا حرف دو حرف سفر آگے کا

Read More

مژدم خان ۔۔۔ کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟

کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟ اِتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں شہر میں گُل کِھلا رہے ہو تم ایک تو ہم اُداس ہیں اُس پر شاعروں کو بُلا رہے ہو تم اور کس نے تمھیں نہیں دیکھا اور کس کے خدا رہے ہو تم پھول کس نے قبول کرنے ہیں جب تلک مسکرا رہے ہو تم

Read More