میر مہدی مجروح

گرد دیتی ہے کارواں کا پتہ یادگارِ گذشتگاں ہوں مَیں

Read More

نوشاد منصف … بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے

بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے بنا ہے رونقِ محفل وہ بے وفا پھر سے یہ آج گردشِ دوراں کہاں پہ لے آئی میں ڈھونڈتا ہوں نیا کوئی آسرا پھر سے نکل پڑے ہیں اچانک ہی اشک خون آلود لوآج پھوٹ پڑا دل کا آبلہ پھر سے وہ جس میں آئی نظرمنزلِ مراد مری تو دے سکے گا وہی مجھ کو آئنہ پھر سے؟ ابھر رہا ہے زمانے میں بعد مدت کے ستم گروں کے ستم کا وہ سلسلہ پھر سے چراغِ زیست کوئی کس طرح جلے منصف…

Read More

الیاس بابر اعوان ۔۔۔ دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں

دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں ہم آسمان سے سیدھے زمیں پہ آ گئے ہیں جو کشتی چھوڑ گئی ہے وہ لے بھی جائے گی گماں کی سمت فقط اِس یقیں پہ آ گئے ہیں درست طور غَلط اُنگلی تھام لی گئی تھی کہیں پہ جانا تھا لیکن کہیں پہ آ گئے ہیں بس ایک دُکھ نے سبھی کو اِکٹھا کر دیا ہے تمام لوگ محبت کے دیں پہ آ گئے ہیں جس اہتمام سے ہم راستوں سے بھٹکے تھے جہاں پہ جانا تھا آخر وہیں…

Read More

اشارے ۔۔۔ منیر نیازی

 اشارے ۔۔۔۔۔۔ شہر کے مکانوں کے سرد سائبانوں کے دل رُبا، تھکے سائے خواہشوں سے گھبرائے رہرووں سے کہتے ہیں رات کتنی ویراں ہے موت بال افشاں ہے اس گھنے اندھیرے میں خواہشوں کے ڈیرے میں دل کے چور بستے ہیں ان کے پاس جانے کے لاکھ چور رستے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول

Read More

عباس رضوی ۔۔۔ مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں

مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں کہ دل تو اپنا ہے پر اختیار اپنا نہیں یہ برگ و بار، یہ سرو و سمن اُسی کے ہیں کوئی گلاب سرِ شاخسار اپنا نہیں نہ منزلوں کی خبر ہے، نہ کارواں ہے کوئی مگر قیام سرِ رہ گُذار اپنا نہیں اُنھی کا خوف اُنھی سے خطر جو اپنے ہیں امید ہے تو اُسی سے ہزار اپنا نہیں گئے وہ دن کہ ہمی پیاس تھے ہمی شبنم نہ جانے کس کا ہے اب انتظار، اپنا نہیں یہ اور بات کہ شامل غبارِ راہ…

Read More

اشرف سلیم

اب آئنے کے برابر ٹھہر گیا ہے سلیم غزال شہر میں وہ خود نمائی چاہتا ہے

Read More

بانی ۔۔۔ آج تو رونے کو جی ہو جیسے

آج تو رونے کو جی ہو جیسے پھر کوئی آس بندھی ہو جیسے شہر میں پھرتا ہوں تنہا تنہا آشنا ایک وہی ہو جیسے ہر زمانے کی صدائے موعتوب میرے سینے سے اٹھی ہو جیسے خوش ہوئے ترکِ وفا کر کے ہم اب مقدّر بھی یہی ہو جیسے اس طرح شب گئے ٹوٹی ہے امید کوئی دیوار گری ہو جیسے یاس آلود ہے ایک ایک گھڑی زرد پھولوں کی لڑی ہو جیسے میں ہوں اور وعدۂ فردا تیرا اور اک عمر پڑی ہو جیسے بے کشش ہے وہ نگاہِ صد…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ کوئی دیوار سلامت ہے نہ گھر باقی ہے

Read More

مرزا واجد حسین یاس یگانہ

سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہِ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا

Read More

قابل اجمیری

ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے

Read More