اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر

اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…

Read More

اختر ہوشیارپوری

یہ اُجڑے اُجڑے دَر و بام کچھ تو کہتے ہیں مَیں اپنی سوچ کی آواز سنتا رہتا ہوں …………… مجموعہ کلام: علامت اشاعت: ادبی اکیڈمی، راولپنڈی طابع: جنگ پریس، راولپنڈی سالِ اشاعت: ۱۹۷۹ء

Read More

وہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی

وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…

Read More

بشیر بدر

خوبصورت، اُداس، خوف زدہ وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: امیج ناشر:نصرت پبلشرز ، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنو طباعت: نامی پریس، لکھنو سنِ اشاعت: جولائی ۱۹۷۳ء

Read More

اے زندگی یہ کیا ہوا تو ہی بتا تھوڑا بہت ۔۔۔ عزیز نبیل

اے زندگی! یہ کیا ہوا، تو ہی بتا تھوڑا بہت وہ بھی بہت ناراض ہے، میں بھی خفا تھوڑا بہت منزل ہماری کیا ہوئی، یہ کس جہاں میں آ گئے اب سوچنا پیشہ ہوا، کہنا رہا تھوڑا بہت نا مہرباں ہر راستہ اور بے وفا اک اک گلی ہم کھو گئے اس شہر میں رستہ ملا تھوڑا بہت یہ لطف مجھ پر کس لیے، احسان کا کیا فائدہ اب وقت سارا کٹ چکا، اچھا برا، تھوڑا بہت اس بزم سے وابستگی کیا کیا دکھائے گی نبیل پھر آ گئے تم…

Read More

آشفتہ چنگیزی

ہم نے کبھی سنا تھا کہیں آس پاس ہیں کہرے میں اور دھند میں لپٹے ہوئے مکاں

Read More

ہاتھ ہریالی کا اک پل میں جھٹک سکتا ہوں میں ۔۔۔ نعمان شوق

ہاتھ ہریالی کا اِک پل میں جھٹک سکتا ہوں مَیں آگ بن کر سارے جنگل میں بھڑک سکتا ہوں مَیں مَیں اگر تجھ کو ملا سکتا ہوں مہر و ماہ سے اپنے لکھّے پر سیاہی بھی چھڑک سکتا ہوں مَیں اک زمانے بعد آیا ہاتھ اس کا ہاتھ میں دیکھنا یہ ہے مجھے کتنا بہک سکتا ہوں مَیں آئنے کا سامنا اچھا نہیں ہے باربار ایک دن اپنی بھی آنکھوں میں کھٹک سکتا ہوں مَیں کشتیاں اپنی جلا کر کیوں تم آئے میرے ساتھ کہہ رہا تھا: مات کھا سکتا…

Read More

دِلی جو ایک شہر تھا ۔۔۔ محمد علوی

دِلّی جو ایک شہر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جامع مسجد بُلاتی رہی میں نہ پہنچا تو سارا قلعہ مارے غصے کے لال ہو گیا نئی دِلی کی سڑکوں پہ پھرتی ہوئی لڑکیاں مجھ سے ملنے کی خواہش لیے، سو کو بالوں سے آزاد کر کے ننگے بدن، ننگے سر سو گئیں اور کیا کیا ہوا، یاد آتا نہیں! ہاں مگر یاد ہے، اب بھی اچھی طرح یاد ہے، چاندنی چوک میں رات کو دو بجے چومنا ایک کو ایک کا اک حماقت ۔۔۔۔ مگر پھر بھی کتنی حسیں! رات آئے تو پاتا…

Read More

شہاب دہلوی

اُن کے تیور چڑھے ہوئے ہیں شہاب جو بھی بولے وہ سوچ کر بولے

Read More

کھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد

کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…

Read More