سجاد بلوچ ۔۔۔۔۔۔ رہین خواب ہوں اور خواب کے مکاں میں ہوں

رہینِ خواب ہوں اور خواب کے مکاں میں ہوں جہان مجھ سے سوا ہے میں جس جہاں میں ہوں تو مجھ کو پھینک چکا کب کا اپنے دشمن پر میں اب کماں میں نہیں ہوں، ترے گماں میں ہوں مری تھکن بھی تری ہجرتوں میں شامل ہے میں گرد گرد سہی تیرے کارواں میں ہوں عجب طرح کا خرد خیز ہے جنوں میرا مجھے خبر ہے میں کس کارِ رائیگاں میں ہوں الجھ پڑا تھا میں اک روز اپنے سائے سے اور اس کے بعد اکیلا ہی داستاں میں ہوں

Read More

رُو بہ رُو ۔۔۔ آج کے مہمان ۔۔۔ حامد یزدانی: رضا صدیقی

Read More

ڈاکٹر یونس خیال

اُن کا پیکر تراشنے کے لیے ہم نے پلکوں سے ابتدا کر دی ……………………. مجموعہ کلام: کالی رات سفر اور مَیں ناشر: مکتبہ فکر و خیال، لاہور مطبع: ثنائی پریس، سرگودھا سنِ اشاعت: جنوری ۱۹۹۱ء  

Read More

نوکری کا تجربہ بڑھتا رہا ۔۔۔ یاسر فاروق

نوکری کا تجربہ بڑھتا رہا بے بسی کا تجربہ بڑھتا رہا جاری رہتی ہیں خطائیں موت تک آدمی کا تجربہ بڑھتا رہا مات کھائی ہے اندھیروں سے تو کیا روشنی کا تجربہ بڑھتا رہا آپ ہی کو ضد تھی مجھ سے ملنے کی آپ ہی کا تجربہ بڑھتا رہا عیش و عشرت آج تالہ بند ہے سادگی کا تجربہ بڑھتا رہا بندگی کی آرزو بڑھتی گئی بے کلی کا تجربہ بڑھتا رہا مشورے دینے کے قابل ہو گئے زندگی کا تجربہ بڑھتا رہا راستے میں پھول بھی ہیں خار بھی…

Read More

عباس تابش

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء

Read More

مکان عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا ۔۔۔ حسن عباس رضا

مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا…

Read More

منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم

منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…

Read More

اکبر الہ آبادی

بحثیں فضول تھیں، یہ کھلا حال دیر میں افسوس! عمر کٹ گئی لفظوں کے پھیر میں ………………………….. انتخابِ اکبر الہ آبادی تصیح ترتیب: ڈاکٹر صدیق الرحمٰن قدوائی مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دریا گنج، دہلی جون ۱۹۷۳ء

Read More

اِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے ۔۔۔ رفیق سندیلوی

اِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے کس سمندر کی رفاقت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے عالمِ فتح میں جاری ہے شجاعانہ رقص اور اِس رقص میں حیرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے نزع کی ، وہم کی یا خواب کی یا  رُویا کی کیا خبر کون سی حالت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے دِل کو ہونا ہی تھا غرقاب کہ وقتِ رخصت جیسے اِنسان کی فطرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے برقِ یک جلوہ سے دِل پہلے لرز اُٹھتا تھا اَب وہ نظارۂ کثرت ہے کہ دِل…

Read More

شہزاد عادل

ہم ایسے لوگ طلب کے قمار خانے میں حیات بیچ کے جو کچھ ملا وہ ہار آئے

Read More