دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے وہ پکھیرو جو بھلائے بھی نہیں جا سکتے تُرش خُو، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم بنا چکھے، بنا کھائے بھی نہیں جا سکتے حیرتِ مرگ، بلاوا ہے یہ اس جانب سے جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے کرچی کرچی کی چبھن سہنا بھی آسان نہیں خواب آنکھوں سے چھپائے بھی نہیں جا سکتے کچھ جو کہتا ہوں تو پھر اپنا ہی دل کٹتا ہے لوگ اپنے ہیں رُلائے بھی نہیں جا سکتے
Read MoreTag: غزلیں
اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے…
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
تیز رو جتنے تھے سب بیٹھ گئے تھک تھک کر نہ ہوئی طے رہِ اُلفت کی زمیں تھوڑی سی
Read Moreآرزو لکھنوی
رہنے دو تسلی تم اپنی، دکھ جھیل چکے، دل ٹوٹ گیا اب ہاتھ مَلے سے ہوتا ہے کیا جب ہاتھ سے ناوک چھوٹ گیا
Read Moreمحسن اسرار
پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreمیر اثر
وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔ کاروبارِِ عتاب ہونا ہے
کار و بارِ عتاب ہونا ہے اب فقط احتساب ہونا ہے کون،کب،کس طرح رہا، یارو! روزِ محشر حساب ہونا ہے خواب میں کل مجھے لگا ایسے عشق اُن سے، جناب! ہونا ہے پھر رہا ہوں گلی گلی جیسے اب مجھے بس خراب ہونا ہے میں ہوں اپنی تلاش میں ناصر کم سے کم دستیاب ہونا ہے
Read Moreاحسان شاہ ۔۔۔۔۔۔۔ گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے
گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے میں آسمان کو اپنی زمین کرتے ہوئے غمِ فراق کی کاٹی ہے رات سجدے میں کسی کی یاد سپردِ جبین کرتے ہوئے وہ کائنات کو جلوت میں لے کے آیا ہے خود اپنے آپ کو خلوت نشین کرتے ہوئے ہوا سے کہہ دو مرے صحن کے درختوں سے کرے کلام تو لہجہ مہین کرتے ہوئے مرے بدن کی کفالت کا بوجھ ہے مجھ پر میں کام کرتا ہوں خود کو مشین کرتے ہوئے میں بے خیالی میں کل رات گھر سے نکلا…
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔ سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں
سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں خموشیوں سے تری گفتگو نکالتا ہوں ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر سے قدم جب کبھو نکالتا ہوں پھر اُس کے بعد میں اپنے لئے بھی بچتا نہیں اگر میں دل سے تری آرزو نکالتا ہوں بھلا نہ پایا جُنوں میں بھی روزگار کا غم میں خارِ دشت سے کارِ رفو نکالتا ہوں برائے وسعتِ ملکِ سخن ، بنامِ سخن میں اپنا لشکرِ فن چارسو نکالتا ہوں سکھانا پڑگیا فرہاد کو یہ فن آخر یہ…
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
Read More