Tag: غزلیں
قتیل شفائی
ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
Read Moreقمر رضا شہزاد
اور پھر اس نے خامشی کے ساتھ ایک آواز کو نشانہ کیا
Read Moreقابل اجمیری
لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے
Read Moreمیرتقی میر ۔۔۔ بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا اُن نے ثمرہ شتاب دیکھا دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اُس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا لیتے ہی نام اُس کا سوتے سے چونک اُٹھے ہو ہے خیر میر صاحب! کچھ تم نے خواب دیکھا!
Read Moreنصیر ترابی
ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے
Read Moreمیر مہدی مجروح
ہم نے تو یہ بھی نہ جانا کہ چمن ہے کیا چیز اپنے ہی حال میں کچھ ایسے گرفتار رہے
Read Moreبانی ۔۔۔ منا لینا اُس کو ہنر ہے مرا
منا لینا اُس کو ہنر ہے مرا بہانہ ہر اک کارگر ہے مرا ہوا ہم سفر ہو گئ ہے مری قدم ہیں مرے، اب نہ سر ہے مرا مجھے کیا خبر تھی تری آنکھ میں عجب ایک عکسِ دِگر ہے مرا مجھے آسماں کر رہا ہے تلاش گھنے جنگلوں سے گزر ہے مرا میں دو دن میں خود تُجھ سے کٹ جاؤں گا کہ ہر سلسلہ مختصر ہے مرا زمانے تری رہبری کے لیے بہت یہ غبارِ سفر ہے مرا ترے سامنے کچھ نہ ہونے کا عکس مرے سامنے کوئی…
Read Moreآرزو لکھنوی
جو سینے میں دل ہے تو بارِ محبت اُٹھے یا نہ اُٹھے، اُٹھانا پڑے گا
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔ ہم پا بہ گِل نہیں تھے نباتات کی طرح
ہم پا بہ گِل نہیں تھے نباتات کی طرح آزادہ رَو تھے خواب و خیالات کی طرح خاک ایک دن میں خاک سے سونا نہیں ہوئی سو مرحلوں سے گزری ہے کچ دھات کی طرح ڈھل جاتے ہیں اُسی میں جو سانچہ میسر آئے شاید ہمارے ذہن ہیں مائعات کی طرح یہ آگ اپنی اَصل میں باطل نہ ہو کہیں دل پر اثر ہے جس کا طلسمات کی طرح لے لی نئے غموں نے پرانے غموں کی جا جسموں میں بنتے ٹوٹتے خلیات کی طرح تاروں کے ساتھ گنتا ہوں…
Read More