احمد ساقی … ہوائے حرص و ہوس ساتھ ساتھ جاری ہے

Read More

قتیل شفائی

ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی

Read More

قمر رضا شہزاد

اور پھر اس نے خامشی کے ساتھ ایک آواز کو نشانہ کیا

Read More

قابل اجمیری

لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

Read More

میرتقی میر ۔۔۔ بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا

بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا اُن نے ثمرہ شتاب دیکھا دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اُس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا لیتے ہی نام اُس کا سوتے سے چونک اُٹھے ہو ہے خیر میر صاحب! کچھ تم نے خواب دیکھا!

Read More

نصیر ترابی

ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے

Read More

میر مہدی مجروح

ہم نے تو یہ بھی نہ جانا کہ چمن ہے کیا چیز اپنے ہی حال میں کچھ ایسے گرفتار رہے

Read More

بانی ۔۔۔ منا لینا اُس کو ہنر ہے مرا

منا لینا اُس کو ہنر ہے مرا بہانہ ہر اک کارگر ہے مرا ہوا ہم سفر ہو گئ ہے مری قدم ہیں مرے، اب نہ سر ہے مرا مجھے کیا خبر تھی تری آنکھ میں عجب ایک عکسِ دِگر ہے مرا مجھے آسماں کر رہا ہے تلاش گھنے جنگلوں سے گزر ہے مرا میں دو دن میں خود تُجھ سے کٹ جاؤں گا کہ ہر سلسلہ مختصر ہے مرا زمانے تری رہبری کے لیے بہت یہ غبارِ سفر ہے مرا ترے سامنے کچھ نہ ہونے کا عکس مرے سامنے کوئی…

Read More

آرزو لکھنوی

جو سینے میں دل ہے تو بارِ محبت اُٹھے یا نہ اُٹھے، اُٹھانا پڑے گا

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ ہم پا بہ گِل نہیں تھے نباتات کی طرح

ہم پا بہ گِل نہیں تھے نباتات کی طرح آزادہ رَو تھے خواب و خیالات کی طرح خاک ایک دن میں خاک سے سونا نہیں ہوئی سو مرحلوں سے گزری ہے کچ دھات کی طرح ڈھل جاتے ہیں اُسی میں جو سانچہ میسر آئے شاید ہمارے ذہن ہیں مائعات کی طرح یہ آگ اپنی اَصل میں باطل نہ ہو کہیں دل پر اثر ہے جس کا طلسمات کی طرح لے لی نئے غموں نے پرانے غموں کی جا جسموں میں بنتے ٹوٹتے خلیات کی طرح تاروں کے ساتھ گنتا ہوں…

Read More