نوید صادق ۔۔۔ ہجومِ یاس تھا ، بے داریاں تھیں اور مَیں تھا

ہجومِ یاس تھا ، بے داریاں تھیں اور مَیں تھا کوئی گذشتہ کی چنگاریاں تھیں اور مَیں تھا سفر تھا اور سفر بھی عجیب دشت کا تھا قدم قدم نئی دُشواریاں تھیں اور مَیں تھا یہ اور بات ، کسی سے بھی کچھ نہ کہہ پایا عجیب رنگ کی سرشاریاں تھیں اور مَیں تھا مجھے بھی ٹھیک سے اب یاد تو نہیں ، ویسے بس اک جدائی کی تیاریاں تھیں اور مَیں تھا چلا تو خود سے ذرا ہٹ کے ہی چلا مَیں بھی کہ شہر بھر کی نگہداریاں تھیں…

Read More

مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی

ہم نے رو رو کے رات کاٹی ہے آنسوئوں پر یہ رنگ تب آیا

Read More

میاں داد خاں سیاح

شاید انھیں بہ طرزِ فسانہ کوئی سنائے کہتے ہیں اپنا حال ہر اک قصہ خواں سے ہم

Read More

بانی ۔۔۔ جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں

جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں عجب نہیں میں ترا بھی کبھی برا چاہوں میں اپنے پیچھے عجب گرد چھوڑ آیا ہوں مجھے بھی رہ نہ ملے گی جو لوٹنا چاہوں وہ اک اشارۂ زیریں ہزار خوب سہی میں اب صدا کے صِلے میں کوئی صدا چاہوں مرے حروف کے آئینے میں نہ دیکھ مجھے میںٕ اپنی بات کا مفہوم دوسرا چاہوں ق کھُلی ہے دل پہ کچھ اس طرح غم کی بے سببی تری خبر نہ کچھ اپنا ہی اب پتا چاہوں کوئی پہاڑ، نہ دریا، نہ…

Read More

حفیظ تائب

آپ کیوں ہنسنے لگے ہیں بے طرح میں تو سودائی ہوا پاگل ہوا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے تیرا دُکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی تار الگ یہ کس نے کیا شیرازے سے کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے…

Read More

اعجاز گل ۔۔۔ باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی

باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی کیمیا یہ خاک اپنی رایگانی سے ہوئی حل ہوا ہے مسئلہ یوں باہمی تفہیم سے گفتِ اوّل کی درستی گفتِ ثانی سے ہوئی رہ گیا کردار باقی یا مرا اخراج ہے بات کچھ واضح نہیں اب تک کہانی سے ہوئی بعد میں دیگر عوامل نے بنائی تھی جگہ اصل میں تو یہ زمیں تشکیل پانی سے ہوئی ہوں مکینِ بے سکونت کتنے رفت و حال کا منقسم یہ ذات ہر نقلِ زمانی سے ہوئی کب سے رکھا جا رہا ہوں درمیانِ وصل…

Read More

اصغر گونڈوی

نالوں سے میں نے آگ لگا دی جہان میں صیاد جانتا تھا فقط مشتِ پر مجھے

Read More

ایوب خاور ۔۔۔ ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

Read More

محمد افتخار شفیع ۔۔۔ جدید ہوتے ہوئے کہنہ سال آدمی ہوں

Read More