ریت گھڑی ۔۔۔ عباس رضوی

ریت گھڑی ۔۔۔۔۔۔ خوبصورت چمک دار رنگوں روشن ہندسوں اور ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑتی ہوئی سنہری روپہلی سوئیوں سے محروم سُریلی آواز میں رہ رہ کر گنگنا اُٹھنے والے الارم سے بے نیاز میں ایک ریت گھڑی ہوں تم اگر چاہو تو میرے بلّور یں جسم کے اندر میری مضطرب روح کو صاف دیکھ سکتے ہو کیونکہ میرے وجود کا آدھا حصہ پیاس ہے اور آدھا ایک سراب ۔۔۔۔۔

Read More

خوابِ یوسف ! ۔۔۔ علی اصغر عباس

خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہوائوں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…

Read More

اوہام و عقاید ۔۔۔ جوش ملیح آبادی

اَوہام و عَقاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیف دورِ بندگی میں کس کو سمجھائوں کہ ہے صرف روحِ آدمیّت ہی اِلٰہُ العالمیں حیف حرفِ حق سے اب تک بر سرِ پیکار ہے عالمِ دینِ متین و مفتئ شرعِ مبیں حیف اوہام و عقاید کے سیہ بازار میں آج تک نورِ حقایق کی کوئی قیمت نہیں عقل کی توہین ہے عرشِ بریں کا احترام آ کہ اب ڈالیں بِنائے سطوتِ فرشِ مبیں دین کے قدموں پہ قرنوں تک یہ دنیا جھک چکی آ کہ اب دنیا کے قدموں پر جھکا دیں فَرقِ دیں

Read More

جاں آشوب ۔۔۔ خالد علیم

جاں آشوب ۔۔۔۔۔۔۔ کیا نکلا سنگِ چقماق کے دَور سے یہ نادان پتھر بن کر رہ گیا پورا، مٹی کا انسان جذبے پتھر، سوچیں پتھر، آنکھیں بھی پتھر تن بھی پتھر، من بھی پتھر، پتھر ہے وجدان اپنے پتھر سینے میں ہے پتھر کی دھڑکن اپنے پتھر ہونٹوں پر ہے پتھر کی مسکان آج بھی ہم پتھر کی پوجا پاٹ میں بیٹھے ہیں اپنے ہاتھ سے آپ تراش کے پتھر کا بھگوان ۔۔۔۔ ہم نے شہر بنائے، ہم نے گھر آباد کیے ہم نے انسانوں کو دی تہذیبوں کی پہچان…

Read More

توقع ۔۔۔ پروین شاکر

توقع ۔۔۔۔ جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہُوئی خواب آسا، سماعت کو چھو جائے، تو کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

Read More

انسان ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…

Read More

اور بارش ہے … ابرار احمد

اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!

Read More

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برفباری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے مہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشئِ جسم و جاں کے نشے میں گئی برفباری کی رُت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں کچھ نہیں اب کہ ہر شے نئی ہے ہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہے ہری پتیوں کی…

Read More

سوداگر ۔۔۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سوداگر ۔۔۔۔۔۔ لو گجر بج گیا صبح ہونے کو ہے دن نکلتے ہی اب میں چلا جاؤں گا اجنبی شاہراہوں پہ پھر کاسۂ چشم لے لے کے ایک ایک چہرہ تکوں گا دفتروں، کارخانوں میں، تعلیم گاہوں میں جا کر اپنی قیمت لگانے کی کوشش کروں گا میری آرامِ جاں! مجھ کو اک بار پھر دیکھ لو آج کی شام لوٹوں گا جب بیچ کر اپنے شفّاف دل کا لہو اپنی جھولی میں چاندی کے ٹکڑے لیے تم بھی مجھ کو نہ پہچان پائیں تو پھر میں کہاں جاؤں گا…

Read More

وہ لڑکی ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

وہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ جن پر میرا دل دھڑکا تھا، وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اُس کی آنکھیں تنہائی میں چپکے چپکے نازک سپنے بنتی ہو گی تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیا وہ مجھ سے اچھی ہو گی؟ مجھ کو تم سے کیا دلچسپی، میں اک اک کو سمجھاتی ہوں یاد بہت آتے ہو جب…

Read More