غزل ہر آن پھیلتا جاتا ہے غم کا صحرا بھی بجھا سکا نہ مری پیاس ہفت دریا بھی عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی گزرتی جاتی ہے ہر سانس زندگی اپنی ٹھہر سکا کہیں دم بھر، ہوا کا جھونکا بھی ہزار بار مری جاں ، اسے غنیمت جان! نگاہ بھر کو جو ہے فرصتِ تماشا بھی دوئی نہیں ہے محبت کے تجربے میں کوئی مری طلب ہے تری آنکھ سے ہویدا بھی اس اک امید پہ خود کو بھی تیاگ…
Read MoreTag: Urdu Poetry
احمد فاروق ۔۔۔ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں
غزل صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں سرِ را ہے تو ہے ، سرِ را ہے میں ہوں لبِ جو سوختۂ شبِ ما ہے میں ہوں نظرے ! باہمہ حالِ تبا ہے میں ہوں تری رفتار کا مارا ہوا تیرا اسیر اُمڈ اے موجۂ زُلفِ سیا ہے ! میں ہوں اُسی دیوار کے سائے تلے گریہ کناں گہے گاہے تو ہے ، گہے گاہے میں ہوں مجھے معلوم ہے کوئی نہیں آئے گا مگر ایسا ہے کہ چشم برا ہے میں ہوں
Read Moreیزدانی جالندھری
بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreمحسن اسرار
ابھی تو روشنی ہی کی ہے میں نے ابھی تم دیکھنا کیا کیا کروں گا
Read Moreشمشیر حیدر ۔۔۔ شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے
شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے جیسے بھی خواب تھے ، مری منزل نہیں ہوئے تجھ کو نہیں ملے ہیں تو اس پر گلہ نہ کر ہم اپنے آپ کو بھی تو حاصل نہیں ہوئے اک عمر تجھ سے بحث میں اپنی گزر گئی پھر بھی تو حل ہمارے مسائل نہیں ہوئے گھٹنوں کے بَل بھی ٹھیک سے چلنا نہ آ سکا ہم لوگ تو ابھی کسی قابل نہیں ہوئے تیرے سوا تو جتنے بھی چہرے تھے سب کے سب آنکھوں نے دیکھے ، خون میں شامل نہیں…
Read Moreسعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ
کوکھ جلا سیارہ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…
Read Moreبانی ۔۔۔ نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں
غزل نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا ! میں کیا ہوں رقص یک قطرۂ خوں ، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا !میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جُدا، میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑ ھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے ، نیا…
Read Moreحسن عباس رضا
آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے
Read Moreیزدانی جالندھری
ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreشاہین عباس
تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور
Read More