مکینک کہاں گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دل پر لگنے والی چوٹ گہری تھی، من میں اترنے والا گھائو شدید تھا۔اس کی آنکھیں جھکی تھیں۔ پائوں کے انگوٹھے سے وہ زمین کرید رہاتھا۔آنکھیں اٹھانا اس تربیت کے خلاف تھاجواس کی طبیعت اورمزاج کا بچپن سے حصہ تھی۔وہ آنکھیں اٹھاکر باپ کے سامنے گستاخی کامرتکب نہیں ہوناچاہتاتھا۔باپ اسے تھپڑ دے مارتاتو وہ سہہ جاناآسان تھا ۔لیکن باپ کی آنکھ میں اُترا غصہ اس کے وجودکوریزہ ریزہ کر گیا۔اپنے وجودکے ریزے چن کردوبارہ سانس بحال کر کے وہ کہیں نکل جاناچاہتاتھا لیکن یہ اتنا آسان…
Read MoreMonth: 2020 مئی
شہزاد عادل
ہم ایسے لوگ طلب کے قمار خانے میں حیات بیچ کے جو کچھ ملا وہ ہار آئے
Read Moreاُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر
اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…
Read Moreقہر ۔۔۔ محمد یعقوب آسی
قہر ۔۔۔ جانے کیسا قہر مچا ہے! کون بتائے، کسے بتائے کون کسی سے ڈر کے چُھپا ہے کس نے پہنی ہیں زنجیریں کیوں پہنی ہیں؟ زنداں کی دیواریں کس پر آن پڑی ہیں کس نے کس کو قتل کیا ہے کون بتائے، کسے بتائے سنتا بھی تو کوئی نہیں ہے!! …………………………… مجموعہ کلام: آئنے سے مکالمہ ۔۔ شاعری ( اُردو، پنجابی، فارسی) ناشر: آواز پبلی کیشنز، اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک، راولپنڈی مطبع: محمود برادرز پرنٹرز سنِ اشاعت: مارچ ۲۰۱۹ء
Read Moreمجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔ شاہد شیدائی
مجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجید امجد کا شعری اطلس دھرتی کے تار و پود سے تیار ہوا ہے جس کی ملائمت اَور سوندھے پن نے ہر طرف اپنا جادو جگا رکھا ہے۔ اُن کی لفظیات اَور اِمیجری میں ہمارے اِرد گرد پھیلے شہروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ جنگلوں‘ پہاڑوں‘ میدانوں‘ دریاؤں اَور سبزہ زاروں کی خوشبو کچھ اِس انداز سے رچی بسی ہے کہ تخلیقات کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنا پورا وجود مہکتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ مجید امجد نے اگرچہ غزل بھی کہی مگر اُن کی اصل…
Read Moreاختر ہوشیارپوری
یہ اُجڑے اُجڑے دَر و بام کچھ تو کہتے ہیں مَیں اپنی سوچ کی آواز سنتا رہتا ہوں …………… مجموعہ کلام: علامت اشاعت: ادبی اکیڈمی، راولپنڈی طابع: جنگ پریس، راولپنڈی سالِ اشاعت: ۱۹۷۹ء
Read Moreوہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read Moreدعا ۔۔۔ قمر جمیل
دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت: ۱۹۸۵ء
Read Moreفورٹ ولیم کالج کی نثری داستانیں (ایک تہذیبی مطالعہ) ۔۔۔ ڈاکٹر عفت زریں
فورٹ ولیم کالج کی نثری داستانیں ایک تہذیبی مطالعہ DOWNLOAD
Read Moreبشیر بدر
خوبصورت، اُداس، خوف زدہ وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: امیج ناشر:نصرت پبلشرز ، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنو طباعت: نامی پریس، لکھنو سنِ اشاعت: جولائی ۱۹۷۳ء
Read More