نوکری کا تجربہ بڑھتا رہا بے بسی کا تجربہ بڑھتا رہا جاری رہتی ہیں خطائیں موت تک آدمی کا تجربہ بڑھتا رہا مات کھائی ہے اندھیروں سے تو کیا روشنی کا تجربہ بڑھتا رہا آپ ہی کو ضد تھی مجھ سے ملنے کی آپ ہی کا تجربہ بڑھتا رہا عیش و عشرت آج تالہ بند ہے سادگی کا تجربہ بڑھتا رہا بندگی کی آرزو بڑھتی گئی بے کلی کا تجربہ بڑھتا رہا مشورے دینے کے قابل ہو گئے زندگی کا تجربہ بڑھتا رہا راستے میں پھول بھی ہیں خار بھی…
Read MoreMonth: 2020 مئی
آخری محبت ۔۔۔ محمد سلیم ساگر
آخری محبت ۔۔۔۔۔۔۔ آنکھ شیشے کی ہے نہ پتھر کی خواب رستے کے ہیں نہ منزل کے دشت دُنیا کا ہے نہ دل کا ہے موج دریا میں ہے نہ ساگر میں صرف اِک آخری محبت ہے اور، دُنیا میں دل نہیں لگتا
Read Moreتصورِ احدیت ۔۔۔ ڈاکٹر غافر شہزاد
تصورِ احدیت ۔۔۔۔۔۔۔ شعور کی منازل طے کرنے والے انسان کے سامنے آج بھی چند سوال کھڑے ہیں، میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کہاں چلا جاؤں گا؟ یہ کائنات کیا ہے؟ کہاں سے وجود میں آئی؟ میرا اور کائنات کا خالق کون ہے؟ انسان، کائنات اور خالق(خدا) تینوں کا باہمی تعلق کس نوعیت کا ہے؟ یہ ایسے دقیق سوالات ہیں کہ صدیوں کی مغزماری، تحقیق اور سائنسی تجربات ابھی تک ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ کائنات کے بارے میں انسان نے جو سوچا کئی صدیوں…
Read Moreعباس تابش
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء
Read Moreمکان عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا ۔۔۔ حسن عباس رضا
مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا…
Read Moreایک دن بارش کے ساتھ !!! ۔۔۔ نصیر احمد ناصر
ایک دن بارش کے ساتھ !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارش، اے بارش! کتنی اچّھی ہے تُو کس موسم کی بیٹی ہے تُو صوتِ غِنا ہے، ققنس پیدا کرتی ہے، موسیقی ہے تُو تیرے گیت کی لَے پر لفظ مِرے رقصیدہ ہیں جھوم جھوم کے لکھتا ہوں ہاتھ بڑھا کے بادل کو کھڑکی تک لے آتا ہوں تجھ کو باتوں میں لگا کر جھیلیں، دریا اور سمندر نظموں میں بھر لاتا ہوں آتشدان کے آگے اولوں کے ڈھیر لگا دیتا ہوں پانی بن جاتا ہوں بارش، اے بارش! کتنی اچّھی ہے تُو مجھ…
Read Moreمنچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم
منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…
Read Moreاکبر الہ آبادی
بحثیں فضول تھیں، یہ کھلا حال دیر میں افسوس! عمر کٹ گئی لفظوں کے پھیر میں ………………………….. انتخابِ اکبر الہ آبادی تصیح ترتیب: ڈاکٹر صدیق الرحمٰن قدوائی مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دریا گنج، دہلی جون ۱۹۷۳ء
Read Moreاِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے ۔۔۔ رفیق سندیلوی
اِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے کس سمندر کی رفاقت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے عالمِ فتح میں جاری ہے شجاعانہ رقص اور اِس رقص میں حیرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے نزع کی ، وہم کی یا خواب کی یا رُویا کی کیا خبر کون سی حالت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے دِل کو ہونا ہی تھا غرقاب کہ وقتِ رخصت جیسے اِنسان کی فطرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے برقِ یک جلوہ سے دِل پہلے لرز اُٹھتا تھا اَب وہ نظارۂ کثرت ہے کہ دِل…
Read Moreالمحدود ۔۔۔ آفتاب اقبال شمیم
المحدود ۔۔۔ درختوں سے پرانے چہچہے رخصت ہوئے باد آزما پتے فشارِ دم کی قلت سے بدن میں چڑمڑا کر، خاک پر خاشاک کی صورت پڑے ہیں یاد کے اس موسمِ افسوس میں ہر شاخ کا چہرہ غمِ ہجراں کی پرچھائیں سے سنولایا ہوا ہے خیر ہو، یہ ہجر و ہجرت نسل بعدِ نسل جاری ہے خزاں کی خیر ہوجس کا یہ کیلنڈر ابھی جینے کی تاریخوں سے خالی ہے شنید و دید کا مارا ہوا ہوں کس طرح دیکھوں وہ آوازیں جو بھیتر میں بپا ہیں ان درختوں کے…
Read More