نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی
Read MoreTag: اردو غزل
خالد علیم
کوئی پہلو میں رہتے ہوئے بھی ہے مجھ سے جدا اِن دنوں میرا سینہ سمندر ہے، دل ناخدا، میں اکیلا نہیں
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا مردُود، بہت مقبول ہُوا ہر طُول کو عرض کیا اُس نے اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے جو کام کیا، وہ اصول ہُوا گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا ہو کیسے سپھل پیوندوں سے ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے
اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
Read Moreاحمد فراز
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
Read Moreمحسن اسرار
ضرورت ہے کہ ہنگامہ کیا جائے مگر کب تک میں ہنگامہ کروں گا
Read Moreخالد احمد
ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read Moreاکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )
یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں دل ابھی تک ہے بورے والا میں گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر…
Read Moreیزدانی جالندھری
ایک درویشِ جہاں دار ہے یزدانی بھی آپ نے شہر میں اکثر اُسے دیکھا ہو گا
Read More