ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا کہ اب چراغ جلانا بہت ضروری تھا ہمارے زخم اگر اور بڑھ گئے بھی تو کیا تمہارا درد بٹانا بہت ضروری تھا مری زمین مرے دل میں بھی شگاف سا ہے یہ راز تجھ کو بتانا بہت ضروری تھا طویل نیند سے بیدار ہو رہے تھے شجر سو اب چراغ بجھانا بہت ضروری تھا مری تو جنگ مرے اپنے ہی وجود سے تھی عدو کو ساتھ ملانا بہت ضروری تھا یہ راستے جو مرے چار سو بچھے تھے ذکی کسی طرف کو تو…
Read MoreTag: بیت بازی
احمد عقیل روبی
انسان ہے تو پھر نہ ملے کیوں غمِ حیات احمد عقیل روبی کوئی دیوتا نہیں
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔ میں گھر میں دیکھا گیا، رہ گزر میں پایا گیا
میں گھر میں دیکھا گیا، رہ گزر میں پایا گیا حضر میں ہوتے ہوئے بھی سفر میں پایا گیا میں اپنی گم شدَگی سے ہی مشتہر ہُوا ہوں میں جب کہیں بھی نہیں تھا، خبر میں پایا گیا دیا بجھا ہوا دیکھا گیا شبستاں میں کوئی مَرا ہوا اپنے ہی گھر میں پایا گیا وہ رو برو بھی نہیں تھا مگر عجب یہ ہے اسی کا عکس مری چشم تر میں پایا گیا شدید رنج ہے شاہد خبر رسانوں کو کہ خواب کیوں مرے رختِ سفر میں پایا گیا
Read Moreشہزاد نیر
خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا وہ حسن مرے پاس کسی کام سے آیا
Read Moreڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔ سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں
سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ مسئلہ اور ہے کچھ، نِبھنے نبھانے کا نہیں دل اگر اپنی سبک چال حریفانہ چلے دور تک کوئی مقابل نظر آنے کا نہیں تم یہ کس زعم میں پھسلے تھے مِری مُٹھی سے گر پڑی چیز پلٹ کر میں اٹھانے کا نہیں اس کھنڈر پر نہیں رکنا،مِری منزل…
Read Moreمحسن اسرار
ہوا میں اُڑتا ہوا رزق پا لیا، لیکن پرندے جراتِ پرواز چھوڑ آئے ہیں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ مرے بھی ہاتھ خالی ہیں
مرے بھی ہاتھ خالی ہیں! …………………………. ابھی دوچار دن بھی ہنس کے یہ بولے نہیں تھے اور ابھی جگنو پکڑنے کے بھی دن آئے نہ تھے ان پر غباروں کو ابھی چھونے کی حسرت دل میں باقی تھی غبارے پھٹ گئے اِن پر یہ سارے پھٹ گئے اِن پر بہت معصوم ہونٹوں اور بہت معصوم آنکھیں رکھنے والے دل کشا چہرے مرے ہی سامنے ان گولیوں نے بھون ڈالے ہیں مرے ہی سامنے بارُود سارا ، پھٹ گیا اِ ن پر مرے ہی سامنے اِن کے سنہری بال جل کر…
Read Moreفرحان کبیر ۔۔۔ ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی
ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی مری آنکھوں کی رنگت بولتی تھی اُداسی، رات بستر سے نکل کر مرے گھر کی تلاشی لے رہی تھی تری آواز میرے پاس بیٹھی کئی الجھے سِرے سلجھا رہی تھی وہ میلہ دیکھنے نکلا تھا گھر سے مگر آنکھوں میں وحشت بھر گئی تھی رواں رکھنا تھا طبعِ خوش گماں کو ندی کی بند مُٹھی کھولنی تھی یہاں بارش میں بچپن کھیلتا تھا اُدھر کاغذ کی نائو ڈوبتی تھی اتر جاتی ہے اب چپ چاپ دل سے یہ دنیا کل تلک کتنی نئی تھی…
Read Moreجعفر بلوچ
تمام رات رہا مے کدہ نشیں جعفر گیا ہے اٹھ کے یہاں سے وہ نیک بخت ابھی
Read Moreاحمد حسین مجاہد … اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب
اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب میرے ذمے ہے نگہبانی ِ ویرانہ ٔ خواب جس پہ اترا ہی نہیں غم کا صحیفہ کوئی مجھ سے وہ خاک سنے گا مرا افسانہ ٔ خواب یہ بھی ممکن ہے کرے حسب ِ تقاضا ہی سلوک مجھ سے شائستہ ٔ وحشت سے وہ بے گانہ ٔ خواب دو مقامات ہیں زیبائی ِ عالم کے کفیل اک تری بزم ہے اک میرا پری خانہ ٔ خواب یہ ترے ہونٹ ، یہ رخسار ، یہ آنکھیں ، یہ جبیں عرصہ ٔ…
Read More