مہلت ۔۔۔۔۔ سرِ مثرگاں ابد آثار امیدوں کا سیلِ خوش نگاہی بہہ رہا ہے اور میں مہلت کی خواہش کے کٹاؤ سے ذرا آگے ارادوں کے حقیقی بانجھ پن کی گونج سنتا ہوں یہیں تم تھے یہیں میں تھا مگر اب راکھ اڑتی ہے تمھارے حسن کی جولاں مری عجلت کی سرشاری کبھی وقفے کی بیزاری بدن کی ساکھ جھڑتی ہے مجھے بوسیدہ فکر و قدر کی شہہ پر دماغوں کی فنا کا مرثیہ لکھنا تھا، لیکن میں نے ہنستی مسکراتی نظم لکھی ہے
Read MoreTag: نظم
ایک عورت …… میرا جی
ایک عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُر میٹھے ہیں ، بول رسیلے، گیت سنانے والی تُو، میرے ذہن کی ہر سلوٹ میں پھیلی نغمے کی خوشبو، راگنی ہلکے ہلکے ناچے جیسےآنکھوں میں آنسو! میرے دل کا ہر اک تار بن کر نغمے کی اک دھار ظاہر کرتا ہے تیرے پازیبوں کی مدھم، موہن مستی لانے والی جھنکار! تیرے دامن کی لہریں ہیں یا ہے مسلا مسلا گیت، یا ہے بھولے دل کی پہلی ،ننھی ، نازک، ناداں پیت، سادہ سادہ لیکن پل میں سب کے دل پر پائے جیت! میرے دل کا ہر…
Read Moreگاؤں کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔ ظفر گورکھپوری
گاؤں کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سماں میری یادوں میں محفوظ ہے گاؤں سے مَیں چلا میری ماں اور رشتے کی کچھ بھابھیاں کچھ بڑی بوڑھیاں کچھ اڑوسی پڑوسی چھوڑنے آئے تھے گاؤں کی آخری حد پہ امرود کے باغ تک آبدیدہ تھے سب اپنی امی کی بانہوں سے تم ہمک کر مری گود میں آ گئے تھے مسکراہٹ میں برفی گھلی تھی اور معصوم "غوں غاں” کہ تالاب…
Read Moreکہیں ٹوٹتے ہیں ….. ابرار احمد
کہیں ٹوٹتے ہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دور تک یہ جو ویران سی رہگزر ہے جہاں دھول اڑتی ہے صدیوں کی بے اعتنائی میں کھوئے ہوئے قافلوں کی صدائیں ، بھٹکتی ہوئی پھر رہی ہیں درختوں میں ۔۔۔۔ آنسو ہیں صحراؤں کی خامشی ہے اُدھڑتے ہوے خواب ہیں اور ہواؤں میں اڑتے ہوے خشک پتے ۔۔۔ کہیں ٹھوکریں ہیں صدائیں ہیں افسوں ہے سمتوں کا ۔۔۔ حدِ نظر تک یہ تاریک سا جو کرہ ہے اُفق تا اُفق جو گھنیری ردا ہے جہاں آنکھ میں تیرتے ہیں زمانے کہ ہم ڈوبتے ہیں…
Read Moreپھول مالا (قوم کی لڑکیوں سے خطاب) ۔۔۔۔۔۔ پنڈت چکبست برج نارائن
پھول مالا (قوم کی لڑکیوں سے خطاب) ………………………… روشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز داغ تعلیم میں اپنی نہ لگانا ہرگز نام رکھا ہے نمایش کا ترقی و رِفارم تم اِس انداز کے دھوکے میں نہ آنا ہرگز رنگ ہے جن میں مگر بوئے وفا کچھ بھی نہیں ایسے پھولوں سے نہ گھر اپنا سجانا ہرگز نقل یورپ کی مناسب ہے مگر یاد رہے خاک میں غیرتِ قومی نہ ملانا ہرگز خود جو کرتے ہیں زمانے کی روش کو بدنام ساتھ دیتا نہیں ایسوں کا زمانا ہرگز خود…
Read Moreمیں ڈرتا ہوں مسرت سے ۔۔۔۔۔۔ میرا جی
مَیں ڈرتا ہوںمسرّت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مَیں ڈرتا ہوںمسرت سے، کہیں یہ میری ہستی کو پریشاں، کائناتی نغمہء مبہم میں الجھا دے؛ کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت؛ مری ہستی ہے اک ذرہ کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے مہرِ عالم تاب کا نشہ؛ ستاروں کا علمبردار کر دے گی،مسرت میری ہستی کو، اگر پھر سے اسی پہلی بلندی سے ملا دے گی تو میں ڈرتا ہوں ۔۔۔ ڈرتا ہوں کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت؛ میں ڈرتا ہوں مسرت سے کہیں…
Read Moreرقص ۔۔۔۔ ن۔م۔ راشد
رقص ۔۔۔۔ اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں مَیں ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا اور جرم عیش کرتے دیکھ لے! اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے رقص کی یہ گردشیں ایک مبہم آسیا کے دور ہیں کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں مَیں! جی میں کہتا ہوں کہ ہاں، رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیش تر…
Read Moreتنہا تنہا …… حمایت علی شاعر
تنہا تنہا …….. میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ۔۔۔آسماں اس جہاں…
Read Moreپسند کا محاذ ….. جلیل عالی
پسند کا محاذ ………….. رن پڑا تو وفا کے متوالے توڑ کر کل کی سوچ زنجیریں پھاند کر ذات کی فصیلوں کو آگ اور خون کے سمندر میں کیسے دیوانہ وار کود گئے اور ہم کو یہ انتطار کہ کب معرکہ ختم ہو تو اپنا قلم فاتحوں کے لئے قصیدے کہے مرنے والوں کے مرثیے لکھے
Read Moreبول کنارے …… عنبرین صلاح الدین
بول کنارے ………….. کانچ کی چُوڑی ہاتھ پہ توڑ کے ٹکڑوں میں اِک خواب سجایا بادل میں اِک شکل بنا کر پورے سال کی بارش آنکھ سے برسا دی رُخساروں سے پلک اُٹھا کر اُس کے تیز کنارے سے اِک چھید کیااور ایک لکیرلپک کر آئی رات کی کالی چادر پر اِک تارا ٹوٹا اپنی دُعا میں انجانا اِک نام لیا اورلمبے بالوں کی اِک سیڑھی شام کی کھڑکی سے لٹکائی کتنے بوجھل پہر گزارے جانے کس بے درد سے پل میں اپنے پانْو کو خواب کی بہتی جھیل میں…
Read More