اے تصویر انسان (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…
Read MoreTag: best poetry
ارشد شاہین ۔۔۔ حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا
غزل حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ…
Read Moreیزدانی جالندھری
بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreذوالفقار عادل ۔۔۔ وہ شہر کسی شہر میں محدود نہیں تھا
وہ شہر کسی شہر میں محدود نہیں تھا اُس میں وہ سبھی کچھ تھا جو موجود نہیں تھا خاموش کچھ ایسا تھا کہ بس تھا ہی نہیں دل آباد بس اتنا تھا کہ نابود نہیں تھا گم ہو گئی زنجیر کی آواز میں آواز افسوس کہ ہم میں کوئی داؤد نہیں تھا مقبول نہیں گرچہ مرے دل کی معیشت یاں کوئی خسارہ کبھی بے سُود نہیں تھا چُھو کر اُسے دیکھا تھا مکرّر نہیں دیکھا عادل وہ مرا خواب تھا، مقصود نہیں تھا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں اشک بھی جیسے اوس ہُوئے دیتے جو دکھائی کم کم ہیں اک جیسی ہیں وہ جلتی آنکھوں کی ہوں کہ چراغوں کی رخساروں منڈیروں پر جتنی بھی لَویں ہیں مدّھم ہیں صحراؤں میں دست و گریباں اِک دوجے سے بگولے بھی بحر کنارے موجیں بھی مصروفِ شورشِ باہم ہیں وہ بھی جو دبنے والے ہیں نسبت اُس سے رکھتے ہیں اور وہ بھی جو دھونس دکھائیں فرزندانِ آدم ہیں اب کے تو آثارِ سحر جیسے نہ اِنہیں بھی دکھائی دیں…
Read Moreشاہین عباس
کہاں کہاں اِس مکاں کی تنہائی کم کروں گا یہ میں اکیلا مکاں گرفتہ ، مکاں گزیدہ
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے
شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے کسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے پکارتا نہیں کوئی لحد پر آ کے مجھے مرے نصیب بھی کیا سو رہے سلا کے مجھے وہ بولے وصل کے شب آپ میں نہ پا کے مجھے چلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے گرا دیا ہے کچھ اس طرح اس نے آنکھوں سے کہ دیکھتا نہیں کوئی نظر اٹھا کے مجھے پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے…
Read Moreمحسن اسرار
ابھی تو روشنی ہی کی ہے میں نے ابھی تم دیکھنا کیا کیا کروں گا
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون
سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون ظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کون مٹی مریضِ غم کی ٹھکانے لگائے کون دنیا تو ان کے ساتھ ہے میت اٹھائے کون تیور چڑھا کے پوچھ رہے ہیں وہ حالِ دل رودادِ غم تو یاد ہے لیکن سنائے کون ہم آج کہہ رہے ہیں یہاں داستانِ قیس کل دیکھئے ہمارا فسانہ سنائے کون اے ناخدا، خدا پہ مجھے چھوڑ کر تو دیکھ ساحل پہ کون جا کے لگے ڈوب جائے کون رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمر اس چاندنی…
Read Moreنجیب احمد ۔۔۔ ہونے کو اس دیار میں کیا کچھ ہوا نہیں
ہونے کو اس دیار میں کیا کچھ ہوا نہیں لیکن وہ ایک تو کہ دوبارہ ملا نہیں تھوڑ ی سی مختلف یہ کہانی ضرور ہے لیکن جو ہو رہا ہے تماشا نیا نہیں کچھ ہو رہا ہے اس کی خبر تو ہوا کو تھی کیا ہو رہا ہے اس کا کسی کو پتہ نہیں کیوں کھیلتا ہوں آتش و آہن کا کھیل میں انسان کے لہو کا اگر ذائقہ نہیں کیا کیا رہِ سفر میں رکاوٹ کھڑ ی نہ کی جھونکا مگر ہوا کا کہیں پر رُکا نہیں سب جانتے…
Read More