اقبال قمر…. ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں

ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں کہ تیر تھے ہی نہیں اور کمانیں کھلنے لگیں وہ اک خیال جو ہم نے کبھی تراشا تھا اسی کے نام پہ ساری دکانیں کھلنے لگیں بس ایک عزمِ مصمم ہے راستے کی کلید قدم اٹھایا نہیں اور چٹانیں کھلنے لگیں سکوت تھا کہ سبھی حلقہ ہائے نور میں تھے چراغ بجھتے گئے اور زبانیں کھلنے لگیں خدا نہ کردہ ہو عجلت مزاج تم سا قمر شکار آیا نہیں اور مچانیں کھلنے لگیں

Read More

محمد افتخار شفیع

میں نکل آتا ہوں بازار کے سناٹے میں گھر میں تو خوف کا احساس نہیں رہتا ہے

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود

نئی پود۔۔۔۔۔۔اُڑ کر گلِ نو بہار کی باسآئی ہے اُداس وادیوں میںکھلتے ہوئے سرکشیدہ پودےہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں” اے دوڑتے وقت کے پیمبر!جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دےٹوٹی ہوئی شاخ کو سنا دےیخ بستہ سمندروں سے کہہ دےان کہر کے چادروں کے پیچھےسورج کی تمازتیں جواں ہیںاور وقت کے قافلے رواں ہیں”

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

شہزاد احمد

کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔ شاخ پہ رنج نمودار نہیں ہو سکتا

کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا میں تمھیں دیکھ رہا ہوں اُسی حیرانی سے آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں مگر گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے باغ میں وقت بِتانے سے یہ ہوتا ہے کہ دل جھومنے لگتا ہے نغموں کی فراوانی سے جہاں رہتے ہیں مرے جان سے پیارے مرشد پیار کرتا ہوں اُسی خطہِ بارانی سے بات دنیا کو عقیدت سے بتاؤ کہ سعید چین…

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔ رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے

رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے کہاں جائو گے، رات کا وقت ہے کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر یہ معمولی اوقات کا وقت ہے یہ کیا دل میں ریزہ رڑَکنے لگا ابھی تو شروعات کا وقت ہے گلے خشک، پیشانیاں تر بتر عمل کے مکافات کا وقت ہے

Read More

احسان شاہ …. کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے

کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے کسی عقاب کو گویا کہ زاغ ،مشورہ دے مرے علاوہ نہیں ہے کوئی یہاں جو مجھے زمیں کو دشت بنائوں کہ باغ ،مشورہ دے مرے ندیم! میں مفلوج ہونے والا ہوں ملے فراغ سے کیسے فراغ ،مشورہ دے امیرِ لشکرِ مغلوب! اب کہاں جائیں مٹائیں خود کو یا رہنے دیں داغ،مشورہ دے علیمِ وقت! نہیں ہے تمیزِ لیل و نہار میں کب جلائوں بجھائوں چراغ ،مشورہ دے

Read More

میاں داد خاں سیاح

شاید انھیں بہ طرزِ فسانہ کوئی سنائے کہتے ہیں اپنا حال ہر اک قصہ خواں سے ہم

Read More

بانی ۔۔۔ جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں

جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں عجب نہیں میں ترا بھی کبھی برا چاہوں میں اپنے پیچھے عجب گرد چھوڑ آیا ہوں مجھے بھی رہ نہ ملے گی جو لوٹنا چاہوں وہ اک اشارۂ زیریں ہزار خوب سہی میں اب صدا کے صِلے میں کوئی صدا چاہوں مرے حروف کے آئینے میں نہ دیکھ مجھے میںٕ اپنی بات کا مفہوم دوسرا چاہوں ق کھُلی ہے دل پہ کچھ اس طرح غم کی بے سببی تری خبر نہ کچھ اپنا ہی اب پتا چاہوں کوئی پہاڑ، نہ دریا، نہ…

Read More