Tag: caarwan.com
احمد ساقی … اس قدر ہی رابطہ رکھا ہوا ہے
شناخت (قومی و ملی نظمیں) ۔۔ خورشید رضوی
DOWNLOAD شناخت۔۔ قومی و ملی نظمیں۔۔ خورشید رضوی
Read Moreعلیم ناصری ۔۔۔ ہجرت
میرا جی
خوشیاں آئیں؟ اچھا، آئیں، مجھ کو کیا احساس نہیں سُدھ بُدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں
Read Moreمیر غلام بھیک نیرنگ
ابھی تشخیصِ مرض میں ہے طبیبوں کو کلام جاں ادھر درپئے رخصت ہے، خدا خیر کرے
Read Moreسارا شگفتہ ۔۔۔ چاند کا قرض
چاند کا قرض ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھُوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں جنم کے پہیے پر موت کی رَتھ دیکھ رہی ہوں زمینوں میں میرا اِنسان دفن ہے سجدوں سے سر اُٹھا لو…
Read Moreایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا مجھ کو زندہ بھی دفنایا جا سکتا تھا چڑیوں کی آواز نہ کانوں تک آ سکتی گھر میں اتنا شور مچایا جا سکتا تھا جب تک برف پگھلتی یا برکھا رُت آتی دریا اور بھی کام میں لایا جا سکتا تھا تم نے اپنا رستہ خود روکا تھا، ورنہ تم جب آنا چاہتے، آیا جا سکتا تھا چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جا سکتی تھیں ہنستے ہنستے غم اَپنایا جا سکتا تھا کتنا ہی مصروف تھا پھر بھی اپنی خاطر تھوڑا سا تو وقت…
Read Moreجب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا دریا کے باہر بھی دھارا ہو سکتا تھا اِک دیوار گرانے، اِک پردہ اُٹھنے سے اندر باہر ایک نظارہ ہو سکتا تھا تاریکی کی قسمت بدلی جا سکتی تھی ہر بستی میں ایک ستارہ ہو سکتا تھا قریہ قریہ خاک اُڑائی جا سکتی تھی میری آنکھوں کا بٹوارا ہو سکتا تھا جاں دے کر سستے میں جان بچا لائے ہو ورنہ عشق میں اور خسارا ہو سکتا تھا کب تک رستہ خوشبوئوں کا روکے رہتے کب تک اپنا جسم گوارا ہو سکتا…
Read Moreعباس تابش
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء
Read More