مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا…
Read MoreTag: caarwan.com
وہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read Moreدعا ۔۔۔ قمر جمیل
دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت: ۱۹۸۵ء
Read Moreرات ہوئی ۔۔۔ فرحت احساس
رات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم کو پا لینے کی دُھن میں دُنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں، پتّوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا، دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی! ………………………….. مجموعہ کلام: شاعری نہیں ہے یہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی ۲۰۱۱ء
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreتوقیر عباس
تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read More