مظفر حنفی ۔۔۔ چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے

چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے جلانے تھے بجھا دینے سے پہلے میاں کیا لازمی تھا خاک اُڑانا کسی کو راستا دینے سے پہلے نسیمِ صبح کو آیا پسینہ خزاں کو بد دعا دینے سے پہلے ملا سکتے ہو کیا ہم سے نگاہیں بغاوت کی سزا دینے سے پہلے مناسب ہے کہ پڑھ لی جائے تختی کسی در پر صدا دینے سے پہلے ہمارا ہارنا طے ہو چکا تھا تمھارے ہاتھ اٹھا دینے سے پہلے سخی مشہور تھے ہم بھی مظفرؔ مگر سب کچھ لٹا دینے سے پہلے

Read More

یزدانی جالندھری

یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا

Read More

ایوب رومانی… منیر نیازی… یونس خیال

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ دیکھے نہیں چراغ بصارت نے میرے خواب

Read More

منیر نیازی ۔۔۔ تنہائی

تنہائی ۔۔۔۔۔۔ میں ، نگہت اور سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در لمبے صحن کے آخر پر لال گلاب کا تنہا پھول اب میں اور یہ سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در دیواروں پر گہرا غم کرتی ہے آنکھوں کو نم گئی دنوں کی اڑتی دھول

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

ایک نظم ۔۔۔۔۔۔ دن چڑھ آیا چل، ہم زاد! میرے بستر پر تو آ جا کالی نفرت سُرخ عقیدت بھوری آنکھوں والی حیرت بھولی بھالی زرد شرافت نیلا نیلا اندھا پیار رنگ برنگے غم کے تار خوشیوں کے چمکیلے ہار دھانی، سبز سپید، سنہرے اپنے سارے نازک جذبے پھر دن کو تجھ کو سونپے مصلحتوں کے شہر میں ان کے لاکھوں ہیں جلّاد دن چڑھ آیا چل، ہم زاد!

Read More

ڈاکٹرغفور شاہ قاسم ۔۔۔ مجید امجد:سفاک تنہائیوں کا شاعر

مجید امجد ۔۔ سفاک تنہائیوں کا شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایذرا پاؤنڈ کا کہنا ہے: ’’شاعری وہ تنہا شخص کرتا ہے جس کی خاموشی اور تنہائی ناقابلِ برداشت ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ پاؤنڈ کی یہ بات بڑی جامعیت اور موزونیت کے ساتھ مجید امجد کی شخصیت اور شاعری کا احاطہ کرتی ہے۔ مجید امجد کے شب و روز کا مطالعہ کیا جائے اور واقعاتِ حیات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ پیدائش سے لے کر وفات تک وہ الم ناک حادثات سے دوچار ہوتے…

Read More

نیا آدمی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

نیا آدمی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر یوں ہوا جو پرانی کتابیں، پرانے صحیفے بزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھے انھیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگے ان کے الفاظ سے کوئی مطلب نکلتا نہیں ہے جو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھی معانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کیے تھے اب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہے اور پھر یوں ہوا چند لوگوں نے یہ  آ کے ہم کو بتایا کہ اب ان پرانی کتابوں کو تہہ کر کے رکھ دو ہمارے…

Read More

شناور اسحاق ۔۔۔ نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد

نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد رکھے گا کون ترے باغ میں قدم مرے بعد ہوائے شام! تری بازگشت مجھ تک ہے کرے گا کون مرے رفتگاں کا غم مرے بعد مگر یہ رقص، بغیرِ کمان و تیر و تبر رہے گی شہرِ غزالاں میں رسمِ رَم مرے بعد بہت قدیم سر و کار جائے گا مرے ساتھ پیے گا کون تری بے رخی کا سم مرے بعد جنوں میں صحو، خبر میں حلولِ بے خبری یہ ساز و رخت نہ ہو گا کبھی بہم مرے…

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔ غزل کو اپنے جنوں سے دراز قد کیے جائیں

غزل کو اپنے جنوں سے دراز قد کیے جائیں ہم اہلِ دِل یونہی آرائشِ خرد کیے جائیں جگر ہو خوں تو عنایت ہو ایک مصرعۂ تر !! سخن عطا ہوں تو پھر کیسے مُسترد کیے جائیں بس ایک شرط پہ میں ہار مان سکتا ہوں مرے خلاف مرے یار نامزد کیے جائیں سو   طَے ہوا کہ یہ اعجازِ دستِ قدرت ہے کسی چراغ سے سورج اگر، حسد کیے جائیں کسی لغت سے وہ مفہوم پا نہیں سکتے! جو حرف حلقۂ دانشوراں میں رَد کیے جائیں اور ایک ہم ہیں کہ…

Read More