سعید راجہ ۔۔۔ چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے

چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے سو اب ہر طاق میں دھوکا دھرا ہے چمن کو سرخ مٹی چاہیے کیا مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے بدن میرا کبھی ایسا نہیں تھا تری قربت میں نیلا پڑ گیا ہے یہ پیشانی کے گھاؤ جانتے ہیں مرا دیوار سے جھگڑا ہوا ہے ابھی تک لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں سنا ہے آنے والا جا چکا ہے چلو اس بات کی تصدیق کر لیں مجھے ہنستے ہوئے دیکھا گیا ہے میں کب کا جا چکا ہوتا یہاں سے سعید اس نے…

Read More

غالب

بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

Read More

شمشیر حیدر ۔۔۔ تری زمیں نہ ترے آسماں سے باہر ہوں

Read More

بانی ۔۔۔ ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے

ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے عشق اب نام کسی قدرِ زوالی کا ہے شہر کا شہر نمونہ ہے عجب وقتوں کا ایک اک شخص یہاں وضعِ مثالی کا ہے کوئی منظر ہے نہ عکس، اب کوئی خاکہ ہے نہ خواب سامنا آج یہ کس لمحۂ خالی کا ہے آ ملاؤں تجھے اک شخص سے آئینے میں جس کا سر شاہ کا ہے، ہاتھ سوالی کا ہے اب مرے سامنے بانی کوئی رستہ ہے نہ موڑ عکس چاروں طرف اک شہرِ خیالی کا ہے

Read More

ممتاز اطہر … سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے

سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے چھلک پڑا ہے جو آنکھوں سے ، خواب سا کچھ ہے اسی کو علم ہے اس رات کی طوالت کا وہ جس کے سینے میں اک آفتاب سا کچھ ہے یہ جس مقام پہ لائی ہیں گردشیں ہم کو یہاں قیام تو شاید عذاب سا کچھ ہے میں خود کو ٹھیک سے ، اک بار پھر بناٶں گا میں جانتا ہوں کہ مجھ میں خراب سا کچھ ہے بنا رہا ہے تصاویر سی وہ باتوں کی سو گفتگو میں وہی…

Read More

غالب

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ مبتلا ہے اور ہی شاید کہیں اب میری دھوپ

Read More

صدف چنگیزی

بس یہی دُھن ہے کہ ہربار پُکارے کوئی اچھا لگتا ہے کسی شہر میں کھونا، اے دل!

Read More

محسن اسرار

بہت اچھا تری قربت میں گزرا آج کا دن بس اب گھر جائیں گے اور کل کی تیاری کریں گے

Read More

بانی ۔۔۔۔ گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں

گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں نہ اب ہوں رہ سے عبارت، نہ منزلوں سےمیں کہاں کہاں سے الگ کر سکوگے تم مجھ کو جُڑا ہوا ہوں یہاں لاکھ سلسلوں سےمیں قدم ملانے میں سب کر رہے تھے قوتیں صرف مِلا ہوں راہ میں کتنے ہی قافلوں سےمیں میں اس کے پاؤں کی زنجیر دیکھتاتھا بہت کچھ آشنا نہ تھا اپنی ہی مشکلوں سےمیں عجیب لوگ ہیں، کچھ کہہ لو، مان لیتے ہیں!! ہوا ہوں زیر بہت زود قاتلوں سےمیں کہو تو ساتھ بہا لے چلوں یہ دکھ بھرے…

Read More