تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا پتا چلے کہ میں…
Read MoreTag: Urdu literature
غلام حسین ساجد
روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے
Read Moreعابدہ عروج
دعویٰ چاہت کا نہیں پر جب اسے سوچا عروج پھول خوشبو رنگ تارے آنکھ میں لہرا گئے
Read Moreحفیظ ہوشیارپوری
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
Read Moreیزدانی جالندھری
کھڑکی کھلی کوئی نہ کوئی در ہی وا ہوا سو بار اس گلی میں صدا کر کے آئے ہیں
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ جو کوئی پھول میسّر نہ ہو آسانی سے
غزل جو کوئی پھول میسّر نہ ہو آسانی سے کام لیتا ہوں وہاں نقدِ ثنا خوانی سے روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے کر کے دیکھوں گا کسی طرح لہو کی بارش آتشِ ہجر بجھے گی نہ اگر پانی سے اُن کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے کیا منور ہیں ستارے مری تابانی سے ؟ کوئی مصروف ہے تزئین میں قصرِ دل کی چوب کاری سے ، کہیں آئنہ سامانی سے خاک زادوں سے تعلق نہیں رکھتے کچھ لوگ…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے
عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے مے خانے میں دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں جام اسی کو دے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے جام نہ دینے کی…
Read Moreسید آل احمد
تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے
Read Moreمحسن اسرار
گھر میں رہنا مرا گویا اُسے منظور نہیں جب بھی آتا ہے نیا کام بتا جاتا ہے
Read Moreخالد علیم
میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں میرے اندر ہے کوئی ہنر آشنا، میں اکیلا نہیں
Read More