کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں
Read MoreCategory: ک
شاہین عباس
کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreظفر اقبال
کچھ نہ کچھ آثار رہ جاتے ہیں اُس کے جابجا وہ یہاں سے جائے بھی تواِس قدر جاتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
کچھ اعتبار کسی طرح کا نہیں باقی یقیں کرتا ہوں جس کا ، گماں نکلتا ہے
Read Moreظفر اقبال
کچھ ایسے ٹوٹنا ہے اس دفعہ تو کہ جیسے کوئی وعدہ ٹوٹتا ہے
Read Moreظفر اقبال
کچھ ایسے ٹوٹتا ہے پیڑ سے پھل کہ جیسے کوئی ناتا ٹوٹتا ہے
Read Moreاقبال کوثر
کوثر جب اِن خداؤں پہ ہم کو یقیں نہیں کیوں منصفوں کے سامنے لائے ہوئے ہیں ہم
Read Moreاقبال کوثر
کیوں خود کو بے شناخت بنائے ہوئے ہیں ہم آ کر یہ کس کے سائے میں سائے ہوئے ہیں ہم
Read Moreاقبال کوثر
کوثر وہ کیا خروشِ تلاطم تھا اس گھڑی لہجے تو شبنموں کے سنائی دیے مجھے
Read More