یزدانی جالندھری

مجھ سے ناراض تو وہ ہیں، لیکن تذکرہ میرا بات بات میں ہے

Read More

فیض احمد فیض

نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی

Read More

خالد علیم

کوئی پہلو میں رہتے ہوئے بھی ہے مجھ سے جدا اِن دنوں میرا سینہ سمندر ہے، دل ناخدا، میں اکیلا نہیں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا

قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا مردُود، بہت مقبول ہُوا ہر طُول کو عرض کیا اُس نے اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے جو کام کیا، وہ اصول ہُوا گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا ہو کیسے سپھل پیوندوں سے ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے

اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے

Read More

احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

Read More

محسن اسرار

ضرورت ہے کہ ہنگامہ کیا جائے مگر کب تک میں ہنگامہ کروں گا

Read More

خالد احمد

ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ دو غزلیں

سبھی دشتِ ہجر کی وسعتیں مرے نام کرکے چلا گیا وہ جو ایک لمحۂ مختصر میں قیام کرکے چلا گیا میں خزاں رسیدہ بدن لیے رہا منتظر سرِ رہ گزر وہ محبتوں کی بہار میں کہیں شام کرکے چلا گیا مری دھڑکنوں کے حصار میں کوئی لمحہ بھر وہ رکا رہا سبھی زحمت دل زار کو جو تمام کرکے چلا گیا دل مضطرب کی پکار ہے کہ وہ بے پناہ حسین شخص مری حسرتوں، مری خواہشوں کو غلام کرکے چلا گیا جسے ہر نظر سے چھپا کے میں نے رکھا…

Read More