غلام حسین ساجد ۔۔۔ دروازہ

دروازہ ۔۔۔ غلام حسین ساجد DOWNLOAD

Read More

میر تقی میر

عاشق ہو تو اپنے تئیں دیوانہ سب میں جاتے رہو چکر مارو جیسے بگولا خاک اُڑاتے آتے رہو

Read More

ثروت حسین ۔۔۔ ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا

Read More

میر مہدی مجروح

شارحِ حالِ دل سمجھ مجھ کو درد ہی درد ہو گیا ہوں مَیں

Read More

باقی احمد پوری ۔۔۔ کیا جانے کہاں مَیں جا رہا ہوں

کیا جانے کہاں مَیں جا رہا ہوں بس خاک بہت اڑا رہا ہوں تو پہلے پہنچ کے کیا کرے گا کچھ دیر ٹھہر، مَیں آ رہا ہوں پہچان ہی مسئلہ ہے سارا سب نام و نشاں مِٹا رہا ہوں یہ شہر چراغ بن گیا ہے دن رات جلا بجھا رہا ہوں اب خود سے مقابلہ ہے میرا اپنے ہی گلَے کو آ رہا ہوں سب غور سے مجھ کو سن رہے ہیں مَیں بات نئی سنا رہا ہوں آنا تو نہیں کسی نے باقی ویسے ہی دیے جلا رہا ہوں…

Read More

غلام حسین ساجد

رات اور طرح کی ہے چراغ اور طرح کا یعنی ہے مری نیند کا باغ اور طرح کا

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے

ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں سے آتے ہوئے یہ سب زمین تھی، آفت رسیدہ ہم ہی نہ تھے ہمارے ساتھ کِھلے، ہم پہ مسکرانے لگے تھے تم بھی ایک گلِ نودمیدہ، ہم ہی نہ تھے تم ایک خواب ہوئے اور بن گئے مہتاب فلک کی آنکھ میں اشکِ چکیدہ ہم ہی نہ تھے بجھی ہوئی تھیں فضائیں، سُلگ رہا تھا دھواں بہ رنگِ طائرِ رنگِ پریدہ ہم ہی نہ تھے جھکا…

Read More

نجیب احمد ۔۔۔ پرندے پانیوں کے ساتھ چلتے ہیں

پرندے پانیوں کے ساتھ چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرندے پانیوں کے ساتھ چلتے ہیں یہ کس پانی کے ساتھی ہیں، یہاں دریا نہیں چلتے ہوا کے پھول کھلتے ہیں نہ اب موسم بدلتے ہیں مری چھاگل میں پانی ہے نہ دل میں قطرہء خوں ہے نہ میرے تن کی مٹی پر ردائے ابر کا ٹکڑا فضا میں دھوپ کی چنگاریاں سی اُڑ رہی ہیں اور مَیں ان جلتی بجھتی مشعلوں ۔۔۔۔۔کے درمیاں اپنی فصیلِ ذات کے پیچھے ردائے ہجر کی بُکل میں بیٹھا ۔۔۔۔۔منتظر ہوں، اُن برستی بارشوں کا، جن برستی…

Read More

سحر انصاری

ہر ایک چیز ہے گھر میں ہماہمی کم ہے جو تم نہیں ہو تو ہنگامہء خوشی کم ہے

Read More

ہادی مچھلی شہری ۔۔۔ اک راز ہے اب تک دلِ ناکام ہمارا

اک راز ہے اب تک دلِ ناکام ہمارا اللہ کو معلوم ہے انجام ہمارا افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را کیا محفلِ عشرت میں بھلا کام ہمارا خوگر جو ازل ہی سے تھے ہم رنج و محن کے کچھ کر نہ سکی گردشِ ایام ہمارا صورت ہی کہاں تھی کہ تمنا کوئی کرتے آغازِ محبت ہی تھا انجام ہمارا کیا جانے کوئی لذتِ بے چارگئی شوق اک چیز ہے ہادی دلِ ناکام ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: نوائے دل باہتمام: حکیم رمضان علی پریس: اسرار کریمی پریس الہ آباد سنِ اشاعت:…

Read More