بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read MoreTag: ناول
اکرم کنجاہی ۔۔۔ فرخندہ لودھی
فرخندہ لودھی ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۷ ء کے روز ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔آبا ؤ اجداد کا تعلق ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) سے تھا۔پہلا افسانہ گولڈ فلیک ۱۹۶۴ء میں لکھا۔اُن کے افسانوی مجموعے شہر کے لوگ، آرسی، خوابوں کے کھیت اور جب بجا کٹورا کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے جرات اور حوصلہ مندی کے ساتھ زندگی کے حقائق بیان کیے۔ اگرچہ اُن کے اسلوبِ بیان میں علامت کا بھی عمل دخل ہے مگر اُن کی علامتیں کہانی کے ساتھ آگے بڑھتی اور خود اپنے مفاہیم واضح کرتی چلی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن
سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…
Read Moreڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب
بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…
Read Moreاُس بازار میں ۔۔۔ شورش کاشمیری
اُس بازار میں (شورش کاشمیری) DOWNLOAD
Read Moreباتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی
باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…
Read Moreاردو ادب کی تشکیلِ جدید ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غافر شہزاد
اُردو ادب کی تشکیلِ جدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر عباس نیر اورئینٹل کالج پنجاب یو نیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد ہیں۔وہ اردو ادب پڑھاتے ہی نہیں ہیں بل کہ اردو ادب کے موضوعات پر کئی برسوں سے مسلسل لکھ رہے ہیں۔ آج اُن کا نام ان کے ہم عصروں میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انھوں نے یہ مقام کسی کے کاندھوں پر کھڑا ہو کر یا کسی کا بغل بچہ بن کر حاصل نہیں کیا بل کہ…
Read Moreدل کی دنیا ۔۔۔۔۔ عصمت چغتائی مع تجزیہ : ڈاکٹر شریف احمد
دل کی دنیا ۔۔۔۔۔ عصمت چغتائی مع تجزیہ DOWNLOAD
Read More