نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آرہا تھا سو کچھ ستارے سے سُونی چھت پربنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُس اک ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے اب ایک صحرابھی ساتھ رہتا ہے اس کے گھر میں سبھی دریچے ہَوا کے رُخ پر…
Read MoreTag: حامد یزدانی
حامد یزدانی
اور اب دیکھیں تو گہری شام کی بیلیں سی پھیلی ہیں ابھی اس کارنس پر دھوپ سا گلدان رکھا تھا
Read Moreحامدؔ یزدانی … تم بھی علامت ہو (اعزاز یافتہ شاعرجاہدؔالحق اور اس کی بنگلہ نظمیں)
تم بھی علامت ہو (اعزاز یافتہ شاعرجاہدؔالحق اور اس کی بنگلہ نظمیں) تحریر: حامدؔ یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی تو تصویر میں شامل اک تصویرہی تھیں اک کھلتی تصویر سینے میں در وا کرتی اک روشن سی تصویر۔۔۔ ۔۔۔۔دیکھو نا، ارے دیکھو نا! کیا تمہیں یہ تصویر دکھائی دیتی ہے؟ ابھی ابھی مِری آنکھیں تم کو ڈھونڈ رہی تھیں۔(تصویر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ریڈی !۔۔۔سمائل۔۔۔!‘‘ کلک۔۔۔کلک۔۔۔کلک۔ ’’لیجیے، اپنا کیمرہ۔ تین تصویریں لی ہیں۔ ایک تو اچھی آہی جائے گی۔‘‘ ریڈیو ڈوئچے ویلے (دی وائس آف جرمنی) کولون کی رُکن اور جرمنی میں ہمارے اوّلین…
Read Moreحامد یزدانی
دشتِ ہنر میں دیوانے آسانی سے کب ملتے ہیں ملتے بھی ہیں تو حامد یزدانی سے کب ملتے ہیں!
Read Moreحامد یزدانی ۔۔ علیم ناصری ۔۔ خالد علیم
حامد یزدانی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نجیب احمد نمبر ۔۔۔ جنوری 2020ء تا جون 2020ء
نجیب احمد نمبر ۔.۔ کارواں جنوری تا جون 2020ء DOWNLOAD
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ مرغولے
مرغولے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جو نفی ٔذات کی سیڑھیاں چڑھتا ہے وہی قُربِ الہٰی کی منزل پاتا ہے۔ رب کہتا ہےکہ تقویٰ اختیارکرو تو مطلب یہ کہ اس سے ڈرو۔۔۔‘‘ ’’عنوان !‘‘۔۔۔’’عنوان۔۔۔؟‘‘ ’’عنوان۔۔۔تو بتا دیجیے پہلے، جناب۔‘‘ سرگوشی نے اسے چونکا دیا۔ ’’اوہ، جی،جی۔معاف کیجیے گا، میں بھول گیا۔میرے افسانے کا عنوان ہے ’ڈر‘۔‘‘ نوآموز افسانہ نگارنے یہ کہتے ہوئے ایک جھکی جھکی نظر حاضرین پر ڈالی۔ اپنے استخوانی لرزیدہ ہاتھ سے سفیدکاٹن کے تریزوں والے کُرتے کی دائیں جیب میں سے چُڑمُڑا سا نیلا رومال نکالا اور ماتھے پر ابھرتے پسینے…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ بہار
بہار ۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا بہار آ گئی؟ کھل اُٹھا زخمِ خوابِ ہنر! پھر دہکنے لگی ہے نظر! یاد روشن ہوئی اب کے کچھ اس طرح یاد روشن ہوئی گھر کے تاریک کونے چمکنے لگے میری البم میں ٹھہرے ہوئے موسموں کو خبر ہو گئی تیری مہکی ہوئی، سرخ تصویر پر ۔۔۔۔۔۔۔ پھول کس نے سجایا ۔۔۔۔۔۔۔ بجھے خواب سے پھوٹتی مرمریں کارنس سے اُترتی ہوئی بیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روشن انگیٹھی سے ہوتی ہوئی کیوں بھلا ؟ میز تک آ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ گلابی کہانی میں رکھا ہُوا خواب ۔۔۔۔۔۔۔ کس…
Read More