مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد، زاہد مسعود

مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد اور زاہد مسعود دفتر ’’بیاض‘‘۔ ایبٹ روڈ لاہور میں ( ۱۹۹۳)

Read More

خالی بالٹی ۔۔۔ حامد یزدانی

خالی بالٹی ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے۔ سرکاری دورے کا آج آخری دن ہے۔ پچھلے چار دن میں مختلف رسمی ملاقاتوں اور باقاعدہ اجلاسوں میں کچھ یوں الجھا رہا کہ نہ تو قدم ڈھاکہ کی چند سرکاری عمارتوں کی سفید راہداریوں میں بھٹکتے تذبذب سے باہر نکل پائے اور نہ ہی ذہن اکڑی ہوئی کرسیوں کو کھینچ کرمستطیل میز کے قریب کرنے اور پھر گھسیٹ کر دُور کرنے کی دھیمی دھیمی گونج سے آزاد ہو پایا۔ ایک نو قائم شدہ ملک کے دارالحکومت میں مصروفیات کی ترتیب یا بے…

Read More

رُو بہ رُو ۔۔۔ آج کے مہمان ۔۔۔ حامد یزدانی: رضا صدیقی

Read More

کہِیں اُس طرف بھی رات نہ ہو!٭ ۔۔۔ حامد یزدانی

کہِیں اُس طرف بھی رات نہ ہو!٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس طرف کمرا خاموش ہے۔ شام کا پردہ گرتا ہے اور وہ دھڑام سے بستر پرآ گرتا ہے۔ غیر ارادی طور پر ہی اس کا بایاں ہاتھ تپائی کی طرف بڑھتا ہے اور ٹیبل لیمپ روشن کر دیتا ہے۔ زیرو واٹ بلب کا زردی مائل اجالاگویا منہ چڑانے لگتا ہے، تپائی پر اونگھتی کتاب کا یا شاید اُس میں قید رات کا۔جانے کیا سوچ کر وہ کتاب اٹھا لیتا ہے اور جانے کیوں وہی صفحہ کُھلتاہے جس پر سِرے سے صفحہ نمبر…

Read More

سیّد یزدانی جالندھری، عظیم قریشی، حامد یزدانی، خالد علیم، محمد احمد شاد

غالباً ستّر کی دہائی کے آخر میں بزمِ خلیقِ ادب گوجرانوالا کی محفلِ مشاعرہ میں برصغیر کے مشہور شاعر جناب سیّد یزدانی جالندھری اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ اسٹیج پر (بائیں جانب سے) سیکرٹری بزمِ تخلیقِ ادب محمد احمد شاد، راقم الحروف خالد علیم (حضرت یزدانی صاحب کی اوٹ میں، کچھ جانے پہچانے سے) ، تین مصرعوں میں نظم ہٹ کردینے والے شاعر عظیم قریشی اور ان کے ساتھ ہی ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، یعنی جناب حامد یزدانی محوِ سماعت ہیں۔ ( خالد علیم)

Read More

قمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل

قمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل

Read More

کہانی ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی

کہانی ۔۔۔ ’’ کہانی سُنائیے ناں، پاپا! مجھے نیند نہیں آرہی‘‘۔ ’’نہیں آج نہیں بیٹا، بہت تھکن ہو گئی آج تو ۔۔۔‘‘ ’’ کِسے؟ کہانی کو ؟‘‘ ’’ ارے نہیں، مجھے ۔۔۔ دن بھر کی مصروفیات نے تھکا کر رکھ دیا ہے۔ کل سُن لینا کہانی ۔۔۔ ضرور سناؤں گا کل ۔۔۔‘‘ ’’ یہ بات تو آپ نے کل بھی کی تھی ۔۔۔۔ مگر آج سنا نہیں رہے ۔۔۔ بس آج تو میں ۔۔۔‘‘ ’’اچھا، بابا، اچھا ۔۔۔کہو، کون سی کہانی سنو گے ۔۔۔؟‘‘ ’’کوئی سی بھی ۔۔۔‘‘ ’’ پھر…

Read More

باتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے  کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…

Read More

وہ اور وہ ۔۔۔ حامد یزدانی

وہ  اور  وہ ۔۔۔۔۔۔ ’’اچھا، تم ہی بتائو مجھے ۔۔۔۔ جو نہیں ہے یا نہیں ہوا، کیا وہ ہو بھی نہیں سکتا؟‘‘ ’’بھئی، اشفاق صاحب کے افسانوں کی حدتک تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔کوئی نورانی بابا جی اچانک کہیں سے نمودار ہو کرجنگل میں بھٹکتے پیاسے کو ہدایت کاروح افزا پلا سکتے ہیں، ایک جیپ خود بخود سٹارٹ ہو کر اپنے مالک کے قاتل کو انجام تک پہنچا سکتی ہے ۔۔۔ مگر حقیقت اور افسانہ دو مختلف چیزیں ہیں‘‘۔ ’’کچھ ایسی مختلف بھی نہیں ہیں کہ جن کے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں

ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں گاؤں کی شام ایسی مصورنےبھی پھر کسی کینوس پراتاری نہیں دل کے لاہورکی بُرجیاں، دیکھتے دیکھتے، زیرِ آبِ خیال آگئیں اب کے آنکھوں کا راوی چڑھا تو پس انداز یادوں کی کتنی ہی نظمیں بہیں کیسے کیسے نہ موسم مِرے گھر کی چھت سے گزر کر گماں ہو چکے، دوستو! دوپہر اک دسمبر کی، ٹھہری ہوئی آج بھی گیلی دیوار پر ہے وہیں صبح کی پھیکی پھیکی سی مرطوب حدّت، بدن سے چپکنے لگی ہم نشیں…

Read More