سلسلے سوالوں کے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔۔……۔۔۔۔۔۔۔ دن کے چہچہوں میں بھی رات کا سا سنّاٹا رات کی خموشی میں جیسے دن کے ہنگامے جاگتی ہوئی آنکھیں، نیند کے دھندلکوں میں خواب کے تصوّر میں اک عذابِ بیداری روز و شب گزرتے ہیں قافلے خیالوں کے صبح و شام کرتے ہیں آپ اپنی غم خواری ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا ہیں؟کون ہیں مگر کیوں ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے سلسلے سوالوں کے چشمۂ ہدایت ہے علم کے صحیفوں میں فن کے شاہکاروں میں اک چراغِ عرفاں ہے مرحمت کے ساماں ہیں ان کی…

Read More

منیر نیازی ۔۔۔ تنہائی

تنہائی ۔۔۔۔۔۔ میں ، نگہت اور سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در لمبے صحن کے آخر پر لال گلاب کا تنہا پھول اب میں اور یہ سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در دیواروں پر گہرا غم کرتی ہے آنکھوں کو نم گئی دنوں کی اڑتی دھول

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

ایک نظم ۔۔۔۔۔۔ دن چڑھ آیا چل، ہم زاد! میرے بستر پر تو آ جا کالی نفرت سُرخ عقیدت بھوری آنکھوں والی حیرت بھولی بھالی زرد شرافت نیلا نیلا اندھا پیار رنگ برنگے غم کے تار خوشیوں کے چمکیلے ہار دھانی، سبز سپید، سنہرے اپنے سارے نازک جذبے پھر دن کو تجھ کو سونپے مصلحتوں کے شہر میں ان کے لاکھوں ہیں جلّاد دن چڑھ آیا چل، ہم زاد!

Read More

ڈاکٹرغفور شاہ قاسم ۔۔۔ مجید امجد:سفاک تنہائیوں کا شاعر

مجید امجد ۔۔ سفاک تنہائیوں کا شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایذرا پاؤنڈ کا کہنا ہے: ’’شاعری وہ تنہا شخص کرتا ہے جس کی خاموشی اور تنہائی ناقابلِ برداشت ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ پاؤنڈ کی یہ بات بڑی جامعیت اور موزونیت کے ساتھ مجید امجد کی شخصیت اور شاعری کا احاطہ کرتی ہے۔ مجید امجد کے شب و روز کا مطالعہ کیا جائے اور واقعاتِ حیات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ پیدائش سے لے کر وفات تک وہ الم ناک حادثات سے دوچار ہوتے…

Read More

نیا آدمی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

نیا آدمی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر یوں ہوا جو پرانی کتابیں، پرانے صحیفے بزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھے انھیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگے ان کے الفاظ سے کوئی مطلب نکلتا نہیں ہے جو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھی معانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کیے تھے اب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہے اور پھر یوں ہوا چند لوگوں نے یہ  آ کے ہم کو بتایا کہ اب ان پرانی کتابوں کو تہہ کر کے رکھ دو ہمارے…

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ گرہ کھل رہی ہے

"گرہ کھل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُدھڑنے کا لمحہ سَروں پر لٹکتی ہوئی تیغ ہے اب گماں اور حقیقت کی نیلی فضا میں کہیں تیرتا ہے وہ ذرّہ سا پَل جب ترے ذہن و دل پر وہ امکان اُترے جو سب راز کھولے تری انگلیاں اُس سِرے کو پکڑ لیں جہاں اک قدیمی تسلسل تعطّل میں رکھا گیا ہے تری مضطرب انگلیاں ایک ہلکی سی جنبش سے ترتیب تبدیل کر دیں سِرا کھینچ کر تُو نئے ہی تسلسل کا آغاز کر دے وہ دہشت ،جو امکان کی قید میں ہے اُسے…

Read More

فہمیدہ ریاض … کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟

کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ” شاعر! تیرے تیور دیکھ کر” کاغذ! تیرے رُخسار پر یہ داغ کیسے ہیں "شاعر! میں تیرے آنسو پی نہ سکا” کاغذ! میں تجھ سے سچ کہوں "شاعر! میرا دل پھٹ جائے گا”

Read More

ڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب

بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…

Read More

انتساب ۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

انتساب ۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کا کھنکتا سکہ جو تم ہر صبح سورج کے ساتھ ہوا میں اُچھالتے ہو اگر خوف کے رُخ پر گرے تو یہ مت بُھلانا کہ شجاعت اسی کے دوسرے رُخ پر کندہ ہے سو یہ ایک داؤ بھی اسی بازی کے نام جو ہم نے بدی ہے زندگی سے۔۔۔۔۔

Read More

ممتاز اطہر ۔۔۔ چم چم کرتی خواہش

Read More