سید آل احمد

کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…

Read More

شاہین عباس

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی

Read More

احمد مشتاق

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا

Read More

سید آلِ احمد

احمد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے

Read More

خالد علیم

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…

Read More

آدرش دبے

ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے

Read More

احمد فراز

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے

تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…

Read More