قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

یزدانی جالندھری

برسا ہے ابر پھر بھی کہیں تازگی نہیں جل تھل کے باوجود تپش ہے، نمی نہیں

Read More

شاہین عباس

گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More

سید آل احمد

آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے

Read More

خالد علیم

اَنا کی اندھی گلی سے گزرنے والوں کو کہے یہ کون کہ اس میں سلامتی کم ہے

Read More

شاہین عباس

میں ہوا تیرا ماجرا ، تُو مرا ماجرا ہوا وقت یونہی گزر گیا ، وقت کے بعد کیا ہوا

Read More

محسن اسرار

حقیقت کے سوا جچتا نہیں کچھ مگر ہم خواب پھر بھی دیکھتے ہیں

Read More

احمد فراز

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

Read More

شاہین عباس

خاک پر خاک اُڑا ئی ہے ، محبت کی ہے شہر کو شہر کی تعمیر سے پہچانا ہے

Read More