دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے
Read MoreMonth: 2024 ستمبر
ماجد صدیقی ۔۔۔ خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی ایسی کیوں ہے، آنکھ نہیں بتلا سکتی ِنِندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی لا فانی ہے، یہ تو کتابیں کہتی ہیں روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بد امنی دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد اُتری ہے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
Read Moreقمر رضا شہزاد کے چند اشعار
گزشتہ عشق کا ہر اک نشان ڈھونڈوں گا میں اپنی کھوئی ہوئی داستان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پھول، پیڑ، پرندے، قلم، چراغ اور تیغ میں ان میں اپنا کوئی ترجمان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔ ہزاروں سال پرانے کھنڈر میں گھومتے وقت عجیب بات کہ اپنا نشاں ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک آنسو ہے میرے برتن میں پیاس کس کس کی بجھائی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں اک روز بہہ نہ جاؤں میں چشمِ گریہ ترے بہاؤ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں یہ دنیا تو غور کرتا ہوں میں یونہی آیا یہاں میرا…
Read Moreمحسن اسرار
اُدھر زمان و مکاں ہیں اِدھر ہے میرا وجود سوال یہ ہے کہ پہلے کسے سنوارا جائے
Read Moreشاہین عباس
عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا
Read Moreفراق گورکھپوری
ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے
Read Moreخالد علیم
یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منشا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں دغا دی تم نے کھلبلی مچ گئی تاروں میں قمر نے دیکھا شب کو یہ چاند سی صورت…
Read Moreیزدانی جالندھری
یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا
Read Moreغلام حسین ساجد
روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے
Read More