غالب

بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

Read More

شمشیر حیدر ۔۔۔ تری زمیں نہ ترے آسماں سے باہر ہوں

Read More

بانی ۔۔۔ ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے

ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے عشق اب نام کسی قدرِ زوالی کا ہے شہر کا شہر نمونہ ہے عجب وقتوں کا ایک اک شخص یہاں وضعِ مثالی کا ہے کوئی منظر ہے نہ عکس، اب کوئی خاکہ ہے نہ خواب سامنا آج یہ کس لمحۂ خالی کا ہے آ ملاؤں تجھے اک شخص سے آئینے میں جس کا سر شاہ کا ہے، ہاتھ سوالی کا ہے اب مرے سامنے بانی کوئی رستہ ہے نہ موڑ عکس چاروں طرف اک شہرِ خیالی کا ہے

Read More

ممتاز اطہر … سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے

سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے چھلک پڑا ہے جو آنکھوں سے ، خواب سا کچھ ہے اسی کو علم ہے اس رات کی طوالت کا وہ جس کے سینے میں اک آفتاب سا کچھ ہے یہ جس مقام پہ لائی ہیں گردشیں ہم کو یہاں قیام تو شاید عذاب سا کچھ ہے میں خود کو ٹھیک سے ، اک بار پھر بناٶں گا میں جانتا ہوں کہ مجھ میں خراب سا کچھ ہے بنا رہا ہے تصاویر سی وہ باتوں کی سو گفتگو میں وہی…

Read More

غالب

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ مبتلا ہے اور ہی شاید کہیں اب میری دھوپ

Read More

صدف چنگیزی

بس یہی دُھن ہے کہ ہربار پُکارے کوئی اچھا لگتا ہے کسی شہر میں کھونا، اے دل!

Read More

محسن اسرار

بہت اچھا تری قربت میں گزرا آج کا دن بس اب گھر جائیں گے اور کل کی تیاری کریں گے

Read More

بانی ۔۔۔۔ گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں

گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں نہ اب ہوں رہ سے عبارت، نہ منزلوں سےمیں کہاں کہاں سے الگ کر سکوگے تم مجھ کو جُڑا ہوا ہوں یہاں لاکھ سلسلوں سےمیں قدم ملانے میں سب کر رہے تھے قوتیں صرف مِلا ہوں راہ میں کتنے ہی قافلوں سےمیں میں اس کے پاؤں کی زنجیر دیکھتاتھا بہت کچھ آشنا نہ تھا اپنی ہی مشکلوں سےمیں عجیب لوگ ہیں، کچھ کہہ لو، مان لیتے ہیں!! ہوا ہوں زیر بہت زود قاتلوں سےمیں کہو تو ساتھ بہا لے چلوں یہ دکھ بھرے…

Read More

خمار بارہ بنکوی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت میں ہر شخص حیرت زدہ ہے مرے اشک ہیں، دامنِ مصطفیٰ ہے یہ کون آج دُنیا میں پیدا ہُوا ہے زمیں کی زیارت کو عرش آ گیا ہے یہ کیوں سانس اُکھڑی ہوئی ہے بُتوں کی یہ کیوں چہرہء کفر اُترا ہُوا ہے دیے ہیں کہ جلتے چلے جا رہے ہیں یہ کیوں آج اتنی مودب ہَوا ہے یہ جشنِ ولادت ہے اُس محترم کا بشر ہو کے بھی جو حبیبِ خدا ہے درِ کعبہ بھی ہے درِ کعبہ…

Read More