مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں
Read MoreTag: اردو کتابیں
عزیز فیصل
کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
Read Moreہاجر دہلوی ۔۔۔۔ آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے
سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ اندازِ سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ…
Read Moreنظر لکھنوی ۔۔۔ موسمِ گل تو یہ بس سال بہ سال اچھا ہے ۔ (دو غزلہ)
فتنہ زا فکر ہر اک دل سے نکال اچھا ہے آئے گر حسنِ خیال اس کو سنبھال اچھا ہے میرے احساسِ خودی پر نہ کوئی زد آئے تو جو دے دے مجھے بے حرف سوال اچھا ہے آپ مانیں نہ برا گر تو کہوں اے ناصح صاحبِ قال سے تو صاحب حال اچھا ہے بے خیالی نہ رہے خام خیالی سے بچو دل میں بس جائے جو ان کا ہی خیال اچھا ہے تیرے رخ پر ہو مسرت تو مرا دل مسرور تیرے چہرے پہ نہ ہو گردِ ملال اچھا…
Read Moreجلیل مانک پوری … نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے
نہ خوشی اچھی ہے‘ اے دل! نہ ملال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دلِ بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن میں خدا خیر کرے وہ ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہہ کہہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے‘ نئی جنس ہے…
Read Moreاحمد فراز
میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔۔ کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے‘ جانتے ہیں دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے رہروانِ رہِ الفت کا مقدر معلوم ان کا آغاز ہی اچھا نہ مآل اچھا ہے دوستی اپنی جگہ پر…
Read Moreاثر رامپوری ۔۔۔ وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے
وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے آئے وہ شب وعدہ تصور کے سہارے وہ کالی گھٹا اور وہ بڑھتے ہوئے دھارے زاہد بھی اگر دیکھے تو ساقی کو پکارے وہ جلوہ گہ ناز وہ مخمور نگاہیں اب کیا کہوں یہ لمحے کہاں میں نے گزارے خود حسن کا معیار ترا ذوق نظر ہیں اتنے ہی حسیں آپ ہیں جتنے مجھے پیارے بے وجہ نہیں حسن کی تنویر میں تابش وہ دیتے ہیں خاکستر الفت کے شرارے تم چاہو تو دو لفظوں میں طے ہوتے ہیں جھگڑے کچھ شکوے…
Read Moreقابل اجمیری
مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے شکستِ ساز کی آواز ہوں میں
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید
پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…
Read More