حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…

Read More

احمد مشتاق

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا

Read More

محسن احسان

مری سماعت و بینائی چھیننے والے میں سن بھی سکتا ہوں مجھ کو نظر بھی آتا ہے

Read More

شاہین عباس

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

Read More

سید آلِ احمد

احمد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے

Read More

خالد علیم

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…

Read More

محسن اسرار

جو پوچھنا ہے ابھی پوچھ لو تو اچھا ہے پھر اس کے بعد تو ہم کچھ نہ کہہ سکیں شاید

Read More

تصدق شعار ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

جب سفینہ کسی منجدھار میں آ جاتا ہے کوئی رخنہ مری پتوار میں آ جاتا ہے غم جو الفاظ کی بندش میں نہیں آ سکتا چُپ کے پیرایۂ اظہار میں آ جاتا ہے سنگ چُنوا دیئے جب اُس نے جھروکے کی جگہ اُس کا چہرہ مری دیوار میں آ جاتا ہے بدنصیبی سے اگر بُھوک گلے پڑ جائے گھر کا سامان بھی بازار میں آ جاتا ہے اُس کو رہتا ہے مرے سامنے آنے سے گریز یہ الگ بات کہ اشعار میں آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لُطف تو کیا کہ…

Read More

سید ضیا حسین ۔۔۔ پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں جان جاؤں نہ عیب سارے مَیں اِک زمانہ بنا لیا دشمن اور کتنے سہوں خَسارے مَیں نیند تو ساتھ ہی گئی اُس کے گنتا رہتا ہوں اب ستارے مَیں آنکھ ملتا ہی رہ گیا اُس دم دیکھ پایا نہیں نظارے مَیں کھول کر خود نہ پڑھ سکا اِن کو بانٹتا ہی رہا سپارے مَیں بات کھُل کر کیا کرو مجھ سے کُچھ سمجھتا نہیں اِشارے مَیں کوئی جلتا ہے گر، جلے بے شک بھر چکا شعر میں شرارے مَیں اک حقیقت ہے، چھوڑ کر خوش…

Read More