مظفر حنفی ۔۔۔ اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں

اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں اپنے لہو کی آنچ نے جھلسا دیا ہمیں کیوں اتنے چھوٹے خود کو نظر آ رہے ہیں ہم یارب یہ کس مقام پہ پہنچا دیا ہمیں آئے تھے خالی ہاتھوں کو پھیلائے ہم یہاں دنیا نے خالی ہاتھ ہی لوٹا دیا ہمیں ٹھنڈی ہوا نے توڑ دیا تھا درخت سے پھر گرد باد آئے سہارا دیا ہمیں زخمی ہوئے تھے جنگ میں دشمن کے وار سے احباب نے تو زندہ ہی دفنا دیا ہمیں کاغذ کی ناؤ پر تھے ہمیں ڈوبنا ہی تھا…

Read More

ایم مبین ۔۔۔ ٹوٹی چھت کا مکان

وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے ۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے ۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں آتے ہیں ۔ جن پر غور کر کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس نے اپنا سر جھٹک کر سر اُٹھانے والے ان لایعنی خیالوں کو ذہن سے نکالا اور…

Read More

مرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…

Read More

الطاف حسین حالی

تم کو ہزار شرم سہی، مجھ کو لاکھ ضبط اُلفت وہ راز ہے جو چھپایا نہ جائے گا

Read More

امیر مینائی

قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

Read More

چکبست لکھنوی

زباں سے جوشِ قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا ابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا

Read More

ڈاکٹر اختر شمار ۔۔۔۔ میرا دشمن بھی خاندانی ہو

Read More

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) ۔۔۔۔ حسام حر ، جواد

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) DOWNLOAD

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے

دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More