سلام جو خیمہ زن ہوا صحرا میں کارواں کو سلام کمالِ صبر و رضا کے اس آسماں کو سلام لہو میں دھل کے ہوئی ہے امیں اجالوں کی اے ریگِ کرب و بلا تیری کہکشاں کو سلام حسین ؑ رفعتوں کا تیری کیا کروں مذکور فلک بھی کرتا ہے کربل کے آسماں کو سلام لہو سے لکھی جو کرب و بلا میں تو نے حسینؑ غریب و سادہ و رنگین داستاں کو سلام جلیل کیسے نہ بھیجوں سلام میں ان پر زمانے کرتے ہیں جب ان کے آستاں کو سلام
Read MoreTag: اردو کے بہترین اشعار
فیض رسول فیضان ۔۔۔۔ سلام
سلام کیا جلوہ کربلا میں دکھایا حسینؓ نے سجدے میں جا کے سر کو کٹایا حسینؓ نے خوش بخت تھا کہ آپ کے قدموں پہ آگرا سویا نصیب حُر کا جگایا حسینؓ نے نیزے پہ سر تھا اور زباں پر تھیں آیتیں قرآن اِس طرح بھی سنایا حسینؓ نے ناناؐ کے پاک نام پہ ہر چیز وار دی کچھ بھی نہ اپنے پاس بچایا حسینؓ نے صدمے سے قدسیوں کی بھی چیخیں نکل گئیں اصغرؓ کو جب گلے سے لگایا حسینؓ نے راہِ خدا میں جان کی بازی لگا گئے…
Read Moreمحمد شفیق انصاری ۔۔۔۔ سلام
سلام صبر کی ہیں تصویر حسینؓ سچ کی ہیں تفسیر حسینؓ حق و باطل کے مابین کھینچی ایک لکیر حسینؓ نانا دیں کے ہیں سردار نانا کی جاگیر حسینؓ خون سے اپنے کربل میں لکھی کیا تحریر حسینؓ! حر جیسوں کی اک پل میں بدل گئی تقدیر حسینؓ تپتے صحرا میں پیاسے کوثر تھی جاگیر ، حسینؓ جرأت و عظمت کا مینار تیری وہ ہمشیر ، حسینؓ! ظلمت کے اس دور میں بھی اک سچی تنویر ، حسینؓ صدیوں سے لاریب شفیق ہم تیرے دلگیر ، حسینؓ!
Read Moreمحمد اشفاق بیگ ۔۔۔ سلام
سلام غمِ شبیر ہر غم سے سوا ہے یہ غم دراصل ہر غم کی دوا ہے لکھوں کیسے مصائب کربلا کے نہیں یہ کربلا ، کرب و بلا ہے وہ سجدہ لاکھ سجدوں سے ہے بڑھ کر جو تلواروں کے سائے میں کیا ہے یزیدیت سراسر کفر و باطل حسینیت تو بس صبر و رضا ہے انوکھا ہے یہ اندازِ حضوری کہ سر کٹ کر بھی سجدے میں پڑا ہے وہ جنت میں جوانوں کے ہیں سلطاں مرے آقا محمد نے کہا ہے جو ہو محبوب‘ محبوبِ خدا کو وہی…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ رباعیات
رباعیات تخلیق کے لمحات میں آفاق آثار میری تمثال، میرے تمثال نگار یا غرفۂ شب میں اک مہکتا ہوا چاند یا پردۂ شام پر دہکتے انگار ۔۔۔ اب دُور نہیں کشتیِ جاں کی منزل مل جائے گا بحرِ آرزو کا ساحل دشت ِ سفرِ فراق تو کچھ بھی نہیں دوچار گھڑی کہیں بہل جا‘ اے دل! ۔۔۔ منزل تک مختصر سفر باقی ہے اے میری ہم سفر! سفر باقی ہے اے عمرِ رواں! کہیں ذرا سستا لے کچھ کم ہی سہی مگر سفر باقی ہے ۔۔۔ ہر عہد کے دامن…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ قطعات
تکبر کام آتے نہیں ، بڑے دعوے بَڑ،جوماریںوہ منہ کی کھاتے ہیں شاملِ حال ہو ، تکبر تو ’’ ٹائی ٹَینِک‘‘بھی ڈوب جاتے ہیں فادر ڈے ویسے حیرت تو اس پہ بنتی ہے آپ ناراض ہو ، نہ جائیں تو اہلِ مغرب کے ہی ، بتانے پر ’’ باپ کا یوم ‘‘، ہم منائیں تو رخ تتلیاں پھول کب سدا بھنورے جلوے رہتے نہیں ، اداؤں کے بات یہ ذہن میں ، مری رکھنا رخ بدلتے بھی ہیں ہواؤں کے لبادے روپ سارے یہ دنیا ، داری کے دلِ نادان…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ ہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا
رہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا نہیں ستارے یہ سوراخ پڑگئے ہیں تمام فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا گلی میں اُس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا لباسِ فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا تمام زلف کے کوچے ہیں مارِ پیچ اُس کی تجھی کو آوے دِلا! چلنا ایسی راہوں کا کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمانِ حال کہ کوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا حساب کا ہے کا روزِ شمار میں مجھ سے شمار…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…
Read More