Tag: Bahawalpur
سید آل احمد
دوں گا کسے صدا کہ سماعت کوآ سکے اے یادِ یار! زخم اگر بولنے لگا
Read Moreمیرا جی ۔۔۔ غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں
ایوب خاور ۔۔۔ حسب نسب خاک ہو رہے ہیں (نعتیہ)
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا مجھ کو زندہ بھی دفنایا جا سکتا تھا چڑیوں کی آواز نہ کانوں تک آ سکتی گھر میں اتنا شور مچایا جا سکتا تھا جب تک برف پگھلتی یا برکھا رُت آتی دریا اور بھی کام میں لایا جا سکتا تھا تم نے اپنا رستہ خود روکا تھا، ورنہ تم جب آنا چاہتے، آیا جا سکتا تھا چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جا سکتی تھیں ہنستے ہنستے غم اَپنایا جا سکتا تھا کتنا ہی مصروف تھا پھر بھی اپنی خاطر تھوڑا سا تو وقت…
Read Moreوہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read Moreدعا ۔۔۔ قمر جمیل
دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت: ۱۹۸۵ء
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreکارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9
Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9
Read Moreتوقیر عباس
تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read More