شاہد ماکلی … مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی

مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی زیادہ دن نہ چلی دوستی مری اس کی وہ منہدم ہوا اپنی کشش کے زیرِ اثر اور ایک نقطے میں جِھلمل سمٹ گئی اس کی میں ایک منظرِ گم گشتہ کی تلاش میں تھا اُمید آگے سے آگے لیے پھری اس کی فسردہ یوں بھی نہیں ہوں مَیں دل کے بجھنے پر تم آؤ گے تو چمک لوٹ آۓ گی اس کی نہ صرف یہ کہ چھٹی حِس یقیں دلاتی ہے گواہی دیتے ہیں پانچوں حواس بھی اس کی خبر دُھوئیں کی…

Read More

عطاء الرحمن قاضی ۔۔۔ ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا

ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا وہ اگر ہے اسی منظر میں دکھائی دے گا اب گلابی میں کہاں جلوۂ گلزارِ ارم رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا خلوتِ ناز سے دوری نے رکھا گرمِ سفر مر ہی جاؤں گا اگر مجھ کو رسائی دے گا دے رہا ہے جو نمو زخم کو ، اک روز وہی دیکھنا ، مرہمِ گریہ مرے بھائی دے گا جھانکتا ہے یہ جو مہتاب کسی غرفے سے نیلمیں شام کو ساغر سے رہائی دے گا زخمہ ور ، چھیڑ! رگِ…

Read More

عابد سیال ۔۔۔ دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے

دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے وہ پکھیرو جو بھلائے بھی نہیں جا سکتے تُرش خُو ، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم بنا چکھے ، بنا کھائے بھی نہیں جا سکتے حیرتِ مرگ ، بلاوا ہے یہ اس جانب سے جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے کرچی کرچی کی چبھن سہنا بھی آسان نہیں خواب آنکھوں سے چھپائے بھی نہیں جا سکتے کچھ جو کہتا ہوں تو پھر اپنا ہی دل کٹتا ہے لوگ اپنے ہیں، رُلائے بھی نہیں جا سکتے

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ

کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ شاید زمیں میں دھنستے رہے ہیں یہاں کے لوگ درپیش تھے زمیں کے مسائل بطورِ خاص محفل سے اُٹھ کے جانے لگے آسماں کے لوگ تجدیدِ راہ و رسم کے کچھ سلسلے تو تھے دیوار بن گئے ہیں مگر درمیاں کے لوگ شاید وہ سر زمینِ قناعت بھی ہو کہیں رہتے ہوں اپنے ظرف کے اندر جہاں کے لوگ شہروں کی پستیوں میں بھی رہنے کے باوجود اب تک بہت عظیم ہیں گاؤں گراں کے لوگ اشعر ہوا کے شور کا…

Read More

معین احسن جذبی

سوالِ شوق پہ کچھ اُن کو اجتناب سا ہے جواب یہ تو نہیں ہے مگر جواب سا ہے

Read More

آفتاب حسین

گُزار دی شبِ عُمر اور اس کے بعد کُھلا اُس آنکھ میں بھی کوئی خواب ہے ہمارے لیے

Read More

شاہین عباس

چہار رخ مرے دو بازوؤں کی باڑ لگا کسی طرف سے بھی فصلِ فنا خراب نہ ہو

Read More

حمیدہ شاہین

شاید پیچھے آنے والے ہم سے بہتر دیکھیں ہم نے کچھ دروازے کھولے ، کچھ پردے سرکائے

Read More

غالب

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

Read More

بہار کی واپسی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

بہار کی واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چپ چاپ بیٹھا ہوں اس رہگزر پر یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا کہیں آج بھی کہہ نہ دے: کچھ نہیں ہے یہ کیا بات ہے لوگ اک دوسرے سے جدا ہو کے یوں جلد ہیں بھول جاتے وہ دن رات کا ساتھ ہنسنا ہنسانا وہ باتیں جنھیں غیر سے کہہ نہ پائیں اچھوتے سے الفاظ جو شاہراہوں پہ آتے ہوئے دیر تک ہچکچائیں کچھ الفاظ کے پھول جو اس چمن میں کھلے تھے جسے محفلِ دوش کہیے جو کچھ دیر پہلے ہی برہم…

Read More